صدیوں سے صاف رات میں آسمان کی طرف دیکھنے کا مطلب ہزاروں ستاروں کا نظارہ تھا، تاہم ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے یہ منظر اب تیزی سے نایاب ہوتا جارہا ہے۔
مصنوعی روشنی رات کے آسمان کو روشن کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں بکھر کر اسکائی گلو پیدا کرتی ہے، جس کے باعث کم روشنی والے ستارے آسمان کے واضح طور پر روشن نظر آنے سے بہت پہلے ہی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔
اس مسئلے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سیٹلائٹ نیٹ ورکس نے بھی ایک نیا چیلنج پیدا کردیا ہے۔ بڑی تعداد میں سیٹلائٹس آسمان پر حرکت کرتے ہوئے دوربینوں کے مشاہدات میں خلل ڈال سکتے ہیں اور ان کی مجموعی تعداد بڑھنے کی صورت میں رات کے آسمان کی روشنی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
حالیہ تحقیق میں مجوزہ سیٹلائٹ نیٹ ورکس کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں سیٹلائٹس کی تعداد 10 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی تو اس کے فلکیاتی مشاہدات پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
رات کے آسمان کی بڑھتی ہوئی روشنی صرف ماہرین فلکیات کے لیے مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی تہذیب کے مشترکہ قدرتی ماحول کا بھی حصہ ہے۔ دنیا کی قدیم تہذیبوں نے ستاروں سے رہنمائی حاصل کی، موسموں اور دنوں کا حساب رکھنے کے لیے آسمان کا مشاہدہ کیا اور کائنات میں انسان کے مقام پر غور کیا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ نسل شاید ان اولین نسلوں میں شامل ہو جو اپنی ہی بنائی ہوئی روشنی اور خلائی تنصیبات کے باعث کائنات کے بڑے حصے کو اپنی نظروں سے چھپا سکتی ہے۔
تاہم یہ صورتحال ناگزیر نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر انداز میں ڈیزائن کی گئی بیرونی روشنیاں، تاریک آسمان کے تحفظ سے متعلق پالیسیاں اور کم روشنی منعکس کرنے والے سیٹلائٹس اس نقصان کو کم کرسکتے ہیں۔ یعنی جس ٹیکنالوجی اور ترقی نے مسئلہ پیدا کیا ہے، اسی کو زیادہ ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرکے رات کے آسمان کو محفوظ بھی بنایا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ستاروں سے بھرا آسمان ہماری مشترکہ قدرتی وراثت ہے اور اسے ترقی کی قیمت سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔