وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باوجود اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے قیام کے حوالے سے اہم قانون سازی آگے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا آج قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد میں باقاعدہ مقامی حکومتوں کے قیام کے عمل میں مزید رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور بل کو پارلیمانی مراحل سے آگے بڑھانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی کابینہ پہلے ہی اسلام آباد میں نئے مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے چکی ہے جس کے تحت وفاقی دارالحکومت کو تین مقامی کونسلوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔ ہر کونسل کا اپنا میئر ہوگا جبکہ ہر کونسل 21 ارکان پر مشتمل ہوگی۔ کونسلوں میں جنرل کونسلرز کے ساتھ خواتین اور اقلیتی نمائندوں کیلئے بھی نمائندگی رکھی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آج قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں بل کی منظوری کیلئے اپنی اکثریت استعمال کرے گی۔ تاہم دوسری جانب پیپلز پارٹی نے مجوزہ قانون کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بھی رابطوں اور پارلیمان میں مشترکہ مخالفت کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔
حکومت کی جانب سے بل کو آگے بڑھانے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد کے موجودہ بلدیاتی نظام سے متعلق نافذ آرڈیننس کی مدت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ ذرائع کے مطابق آرڈیننس 5 ستمبر کو ختم ہورہا ہے جس کے باعث حکومت کیلئے نئے قانونی فریم ورک کی منظوری انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو تبدیل کرکے نیا ٹاؤن کارپوریشن فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن کیلئے ایک میئر اور دو ڈپٹی میئرز کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
مجوزہ نظام میں یونین کونسلوں کے چیئرمین ٹاؤن کارپوریشنز کے جنرل ممبرز ہوں گے جبکہ مخصوص نشستوں کے ذریعے خواتین، کسان و مزدور، نوجوان، تاجر اور غیر مسلم شہریوں کو نمائندگی دینے کی تجویز ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کا مقصد وفاقی دارالحکومت میں مقامی سطح پر شہری اور بلدیاتی معاملات کو منتخب نمائندوں کے ذریعے چلانے کیلئے نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں مقامی حکومتوں کے قیام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مستقبل میں بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوسکے گی۔
قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد بل کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حتمی منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ قانون سازی مکمل ہونے، متعلقہ نوٹیفکیشنز اور نئی حلقہ بندیوں کے مراحل طے ہونے کے بعد الیکشن کمیشن اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا نیا شیڈول جاری کرنے کی پوزیشن میں آسکے گا۔
تاہم پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث حکومت کو پارلیمانی مرحلے میں سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی بل کی مخالفت کیلئے ایوان میں مشترکہ حکمت عملی بھی اختیار کرسکتی ہیں۔
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ پہلے ہی کئی مرتبہ قانونی اور انتظامی تبدیلیوں کے باعث تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے نئے فریم ورک کو آگے بڑھانے کے فیصلے کے بعد اب توجہ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس پر مرکوز ہے، جہاں بل کی منظوری یا مخالفت آئندہ قانون سازی کے عمل کی سمت طے کرے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے قیام کے معاملے کو مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونے دینا چاہتی اور سیاسی اختلاف کے باوجود قانون سازی کا عمل آگے بڑھانے کیلئے تیار ہے