وزارتِ آئی ٹی نے نوجوانوں کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے کمانے کا آسان طریقہ بتا دیا

وزارتِ آئی ٹی نے نوجوانوں کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے کمانے کا آسان طریقہ بتا دیا

وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ ’انٹیگریٹڈ سرکٹ‘ (آئی سی) ڈیزائن کی تربیت حاصل کرنے والے نوجوان انجینیئرز پاکستان میں باآسانی 150,000 روپے ماہانہ کما سکتے ہیں۔

حکومتی سرپرستی میں چلنے والے اس جدید تربیتی پروگرام نے مقامی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں ہنرمندوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

وزارت آئی ٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے ایک تحریری جواب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت ملک میں ٹیکنالوجی کی خصوصی مہارتوں کے فروغ اور نوجوان انجینیئرز کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے بڑا فیصلہ

اس سلسلے میں وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے ’نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ‘ (اِگنائٹ) کی مالی معاونت اور ’فاسٹ-نوسیز‘کے اشتراک سے ایک خصوصی اور جدید تربیتی پروگرام کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔

اس منفرد پروگرام کے تحت ملک کے 20 مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 30 ذہین انجینیئرز کا انتخاب کیا گیا، جن میں 7 خواتین بھی شامل تھیں۔

شرکا کو ’ایڈوانسڈ آئی سی ڈیزائن‘، ’وی ایل ایس آئی ویری فکیشن‘، ’سسٹم آن چپ‘ آرکیٹیکچر اور انڈسٹری کے معیاری ڈیزائن ٹولز پر اعلیٰ درجے کی پیشہ ورانہ تربیت دی گئی۔

مزید برآں نوجوانوں کو ’چپ ٹیپ آؤٹ‘ اور مائیکرو چپس کی فیبریکیشن کے عملی اور پیچیدہ طریقہ کار سے بھی روشناس کرایا گیا۔

شاندار نتائج اور فوری ملازمتوں کی بھرمار

اس تربیتی پروگرام کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ شاندار رہے ہیں۔ وزارت کے مطابق تربیت مکمل کرنے والے 30 میں سے 23 نوجوان انجینیئرز نے فوری طور پر پاکستان کی ابھرتی ہوئی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں ملازمتیں حاصل کر لی ہیں۔

دوسری جانب بقیہ 7 زیرِ تربیت انجینیئرز نے فوری ملازمت کے بجائے اعلیٰ تعلیم اور مزید مہارت کے حصول کے لیے ماسٹرز ڈگری پروگرامز میں داخلہ لینے کو ترجیح دی۔

‘اِگنائٹ’ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ’آئی سی ڈیزائن اور ویری فکیشن‘ کے شعبے میں قدم رکھنے والے نئے پروفیشنلز کی ابتدائی ماہانہ تنخواہ 150,000 روپے یا اس سے زیادہ ہوتی ہے، جو اس فیلڈ میں ہنرمند افراد کی بے پناہ مارکیٹ ڈیمانڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:عوام کو آسان اقساط کے ذریعے اسمارٹ فونز فراہم کیے جائیں گے، وفاقی وزیر آئی ٹی

پاکستان طویل عرصے سے روایتی شعبوں میں ڈگری یافتہ انجینیئرز کی بے روزگاری کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

تاہم عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر اور مائیکرو چپس کی بڑھتی ہوئی مانگ نے ایک نئی ملٹی بلین ڈالر انڈسٹری کو جنم دیا ہے۔

ماضی میں پاکستان اس عالمی مارکیٹ میں اپنا مؤثر حصہ ڈالنے سے قاصر تھا، لیکن اب ‘اِگنائٹ’ اور وزارت آئی ٹی کے حالیہ اقدامات سے ملک میں ہائی ٹیک آئی ٹی اور چپ ڈیزائننگ کے شعبے کی ٹھوس بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

یہ پروگرام حکومت کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ کا ایک اہم ترین جزو بنانا اور قیمتی انسانی سرمائے (برین ڈرین) کے انخلا کو روکنا ہے۔

اس پروگرام کے حیران کن نتائج کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ پیش رفت محض ایک تربیتی کورس کی کامیابی نہیں، بلکہ پاکستان کے معاشی اور تکنیکی مستقبل کے لیے ایک زبردست سنگِ میل ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک کو روزگار کے شدید بحران کا سامنا ہے، سیمی کنڈکٹر جیسی جدید انڈسٹری میں نوجوانوں کی شمولیت ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 30 میں سے 23 افراد کا فوراً روزگار پا لینا اس بات کا غماز ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ’آئی سی ڈیزائننگ‘ کے ماہرین کی بے پناہ طلب موجود ہے جسے ابھی تک پوری طرح استعمال نہیں کیا گیا۔

مزید یہ کہ اس محدود پروگرام میں 7 خواتین کی شمولیت اور کامیابی، ملکی ہائی ٹیک شعبوں میں صنفی مساوات اور خواتین کی حوصلہ افزائی کا ایک شاندار ماڈل پیش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی ماہرین کی بھارت سے واپسی، ’میڈ اِن انڈیا‘ کا فریب کھل کر سامنے آگیا، آئی ٹی اور الیکٹرانکس صنعت بیٹھ گئی

اگر حکومت اس طرز کے پائلٹ پروجیکٹس کو وسیع کر کے ملک بھر کے ہزاروں نوجوانوں کو یہ تربیت فراہم کرے، تو پاکستان نہ صرف اپنی مقامی مارکیٹ کی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ فری لانسنگ اور آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

یہ اقدام اس حقیقت پر بھی مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ روایتی تعلیم سے ہٹ کر مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہنر سکھانا ہی بے روزگاری کے خاتمے کا واحد اور پائیدار حل ہے۔

Related Articles