مریخ پر نظر آنے والی عجیب و غریب چٹان، حقیقت کیا ہے؟

مریخ پر نظر آنے والی عجیب و غریب چٹان، حقیقت کیا ہے؟

2015میں ناسا کی جانب سے مریخ پر بھیجے گئے کیوروسٹی روور کی ایک تصویر نے انٹرنیٹ پر خاصی توجہ حاصل کی۔ تصویر میں انٹرنیٹ کی بنجر سطح پر ایک ایسی چٹانی ساخت دکھائی دی جو دور سے دیکھنے پر اہرام جیسی محسوس ہوتی ہے۔

اس چٹان کی شکل باقی اردگرد کے پتھروں سے کچھ مختلف اور ہندسی انداز کی نظر آتی ہے۔ نوکیلی چوٹی اور دونوں جانب سے ڈھلوان سطحوں کے باعث اسے دیکھنے والوں نے اہرام سے مشابہ قرار دیا۔ تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا مریخ پر ماضی میں کسی قدیم تہذیب کے آثار موجود ہوسکتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:پلاسٹک کچرے سے پیٹرول، ڈیزل اور طیاروں کا ایندھن بنانے کی کوشش

تاہم سائنسی طور پر اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ یہ ساخت مصنوعی طور پر بنائی گئی ہے۔ مریخ کی سطح پر اربوں سال سے جاری ارضیاتی سرگرمیوں، کٹاؤ اور شہابیوں کے ٹکراؤ نے مختلف شکلوں کی چٹانی ساختیں بنائی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بعض اوقات روشنی، سائے اور کیمرے کے زاویے کی وجہ سے قدرتی چٹانیں بھی انسان کو جانی پہچانی شکلوں سے مشابہ دکھائی دے سکتی ہیں۔

ممکن ہے مریخ پر موجود یہ ’پرامڈ‘ محض قدرت کا ایک دلچسپ اتفاق ہو، لیکن اس تصویر نے ایک بڑا سوال ضرور زندہ رکھا ہے کہ مریخ آج سے کروڑوں یا اربوں سال پہلے کیسا دکھائی دیتا تھا؟ٓ

editor

Related Articles