پاک فضائیہ سے مار کھانے والے بھارتی پائلٹ ابھینندن سے متعلق بڑی خبر

پاک فضائیہ سے مار کھانے والے بھارتی پائلٹ ابھینندن سے متعلق بڑی خبر

فروری 2019 کی پاک بھارت فضائی جھڑپ میں گرفتار ہونے والے بھارتی فضائیہ کے سابق پائلٹ ابھینندن ورتھمان نے ریٹائرمنٹ کے بعد کمرشل ہوا بازی کے شعبے میں قدم رکھ دیا ہے۔

انہوں نے بھارت کی مقامی ایئرلائن ‘فلائی 91’ میں بطور کمرشل پائلٹ شمولیت اختیار کر لی ہے اور اس وقت طیارے اڑانے کی ضروری ٹریننگ کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔

عسکری ہوا بازی سے کمرشل فلائنگ کا سفر

بھارتی فضائیہ کے سابق گروپ کیپٹن ابھینندن ورتھمان، جو پاک بھارت کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر مشہور ہوئے تھے، اب ایک بالکل نئے روپ میں مسافروں کو خدمات فراہم کرتے نظر آئیں گے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے عسکری خدمات سے سبکدوش ہونے کے بعد کمرشل ایوی ایشن کا انتخاب کیا ہے اور حال ہی میں بھارت کی ابھرتی ہوئی علاقائی ایئرلائن ‘فلائی 91’ کا باقاعدہ حصہ بن گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ان کے کیریئر میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی ہے۔

تربیتی مراحل اور مستقبل کی پروازیں

ایئرلائن سے وابستہ ذرائع کے مطابق ابھینندن اس وقت ایک سخت کمرشل تربیتی پروگرام سے گزر رہے ہیں جس کے تحت وہ گوا اور حیدرآباد کے روٹس پر لازمی ٹریننگ مکمل کر رہے ہیں۔

مسافر بردار طیارے اڑانے کے اصول جنگی طیاروں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں، اسی لیے انہیں نئے ضوابط سکھائے جا رہے ہیں۔

ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ریگولیٹری منظوری اور پروازوں کی باقاعدہ تربیت مکمل ہوتے ہی ابھینندن ‘فلائی 91’ کے ‘اے ٹی آر’ طیاروں کی کمرشل پروازیں آزادانہ طور پر آپریٹ کرنا شروع کر دیں گے۔

یاد رہے کہ 27 فروری 2019 کو پاک بھارت فضائی جھڑپوں کے دوران ابھینندن عالمی خبروں کا مرکز بن گئے تھے۔

 ان کا جنگی طیارہ ‘مگ 21’ لائن آف کنٹرول عبور کر کے جوں ہی پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اسے مار گرایا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں آزاد کشمیر کے علاقے میں زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ نے بھارت کے پاکستانی ایف-16 طیارہ گرانے کے بھونڈے دعوے کو مسترد کر دیا

دورانِ حراست ان کا رویہ اور انہیں پیش کی جانے والی چائے پر ان کا تبصرہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔ بعد ازاں، حکومت پاکستان نے خطے میں امن اور خیرسگالی کے بے مثال جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں یکم مارچ 2019 کو واہگہ بارڈر کے راستے بحفاظت بھارت کے حوالے کر دیا تھا۔

ابھینندن کا فائٹر پائلٹ کی جارحانہ زندگی سے نکل کر کمرشل ایوی ایشن کے محتاط شعبے میں آنا ایک انتہائی دلچسپ ارتقا ہے۔

ایک جنگی پائلٹ کی پوری تربیت خطرات مول لینے اور دشمن پر وار کرنے کے گرد گھومتی ہے، جبکہ مسافر بردار طیارے کے پائلٹ کی اولین اور حتمی ترجیح مسافروں کا تحفظ، سکون اور محتاط پرواز ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:آپریشن سندور کا خفیہ نقصان بے نقاب، بھارت کا ہلاک فوجیوں کو اعزازات دینے کا اعلان

ماضی میں پاکستانی حدود میں دراندازی کی ناکام کوشش اور طیارہ تباہ ہونے کے صدمے سے گزرنے والے اس پائلٹ پر اب عام شہریوں کی جانوں کی بھاری ذمہ داری ہوگی۔

دیکھنا یہ ہے کہ عسکری ہوا بازی میں ہزیمت اٹھانے والے ابھینندن، کمرشل پروازوں کے مسابقتی اور حساس ماحول میں خود کو کتنا کامیاب اور قابلِ اعتماد ثابت کر پاتے ہیں۔ ان کی یہ نئی شروعات یقیناً عوامی اور میڈیا کی دلچسپی کا مرکز بنی رہے گی۔

Related Articles