بالی ووڈ میں کامیابی کا معیار عام طور پر فلموں کی تعداد نہیں بلکہ باکس آفس پر کامیابی کو سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک بھارتی اداکار نے اپنے طویل کیریئر میں ناکامیوں کے باوجود ایسا مقام بنایا جو اپنی مثال آپ ہے۔
یہ اداکار متھن چکرورتی ہیں، جنہوں نے تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر میں 270 سے زائد فلموں میں کام کیا۔ ان کی تقریباً 180 فلمیں باکس آفس پر ناکام رہیں، تاہم اس کے باوجود وہ بھارتی فلم انڈسٹری کے نمایاں اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
متھن چکرورتی نے 1976 میں مرنال سین کی فلم ’مریگیا‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ پہلی ہی فلم میں شاندار اداکاری پر انہیں نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ان کے کیریئر کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ 1980 کی دہائی میں ’شوکین‘ اور ’اشانتی‘ سمیت کئی فلموں میں کام کرنے کے بعد 1982 میں ریلیز ہونے والی ’ڈسکو ڈانسر‘ نے انہیں گھر گھر پہنچا دیا۔
’ڈسکو ڈانسر‘ کی مقبولیت صرف بھارت تک محدود نہیں رہی بلکہ روس میں بھی فلم نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ 1985 میں روس میں ریلیز ہونے کے بعد یہ دنیا بھر میں 100 کروڑ روپے کمانے والی پہلی بھارتی فلم بن گئی اور اس نے ’شعلے‘ کو پیچھے چھوڑ کر سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلم کا اعزاز حاصل کیا۔
تاہم متھن نے اپنے کیریئر کے ایک مرحلے پر معیار کے بجائے زیادہ فلموں میں کام کرنے کو ترجیح دی۔ وہ ایک سال میں 8 سے 12 فلموں تک میں نظر آئے، جن میں بڑی تعداد کم بجٹ کی ایکشن فلموں کی تھی۔
1990 کی دہائی میں جب بالی ووڈ میں نئے اداکار مقبول ہونے لگے تو متھن نے کم بجٹ کی ایکشن فلموں کا رخ کیا۔ ان کی یہ فلمیں کم وقت اور محدود بجٹ میں تیار کی جاتی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بطور مرکزی اداکار ان کی آخری سولو ہٹ فلم ’راون راج‘ 1995 میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے زیادہ تر معاون کرداروں میں کام کیا۔
متھن کے کیریئر میں ایک بار پھر بڑی کامیابی اس وقت آئی جب وہ 72 برس کی عمر میں وویک اگنی ہوتری کی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ میں نظر آئے۔ 2022 میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے توقعات کے برعکس باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی اور دنیا بھر میں تقریباً 350 کروڑ روپے کا بزنس کیا۔
’دی کشمیر فائلز‘ آج بھی متھن چکرورتی کے کیریئر کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ یوں تقریباً 180 فلاپ فلموں اور کئی دہائیوں کے اتار چڑھاؤ کے باوجود متھن چکرورتی نے ثابت کیا کہ فلمی کیریئر میں کامیابی صرف ہٹ فلموں کی تعداد سے نہیں بلکہ طویل عرصے تک اپنی جگہ برقرار رکھنے سے بھی حاصل ہوتی ہے۔