پلاسٹک کچرے سے پیٹرول، ڈیزل اور طیاروں کا ایندھن بنانے کی کوشش

پلاسٹک کچرے سے پیٹرول، ڈیزل اور طیاروں کا ایندھن بنانے کی کوشش

امریکی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان جولین براؤن نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کچرے کو ایندھن میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر اپنی زندگی وقف کردی ہے۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کا تیار کردہ نظام مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے اور پائیداری کے شعبے میں اہم تبدیلی لاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد انہیں نیچرجاب( @naturejab )کے نام سے جانتے ہیں۔ جولین براؤن نے اس منصوبے پر تحقیق اس وقت شروع کی جب وہ صرف 17 سال کے تھے اور ابھی ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔

نوجوان موجد نے اپنے تیار کردہ نظام کو پلاسٹولائن کا نام دیا ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں شمسی توانائی سے چلنے والی مائیکرو ویو پائرولیسس ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو آکسیجن کے بغیر ایک مخصوص چیمبر میں گرم کرکے اس کی کیمیائی ساخت تبدیل کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:6 سال کی محنت رنگ لے آئی، باجوڑ کے نوجوان کا تیار کردہ جہاز توجہ کا مرکز

اس عمل کے نتیجے میں ٹھوس پلاسٹک سے مائع ہائیڈروکاربن حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جسے مزید صاف کرکے پٹرول، ڈیزل اور طیاروں کے ایندھن جیسے مصنوعات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

5مختلف پروٹوٹائپ خود تیار کیے

جولین براؤن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے منصوبے کے لیے اب تک5مختلف پروٹوٹائپ تیار کیے ہیں۔ ان میں سے بیشتر پر انہوں نے خود کام کیا اور ویلڈنگ سمیت کئی ہنر انہوں نے عملی تجربے سے سیکھے۔ نوجوان موجد نے محدود وسائل کے باوجود پرزوں اور استعمال شدہ سامان کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے اپنے تجربات جاری رکھے۔ ان کی مسلسل محنت نے انہیں سوشل میڈیا پر غیر معمولی شہرت بھی دلائی۔

یہ بھی پڑھیں:پلینیٹ نائن کا راز، کیا نظام شمسی میں ہمارا ایک اور پڑوسی موجود ہے

تاہم اس منصوبے کے ساتھ انہیں مالی اور جسمانی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ براؤن کے مطابق ان کے تجربات میں استعمال ہونے والا بعض سامان انتہائی مہنگا ہے اور کسی ایک اہم حصے کی قیمت بھی دسیوں ہزار ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے عطیات، کراؤڈ فنڈنگ اور مختلف گرانٹس پر بھی انحصار کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر خاموشی نے مداحوں کو پریشان کردیا

جولین براؤن کے منصوبے کو جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہے، وہیں ان کی سرگرمیوں نے عوامی تشویش بھی پیدا کی۔ ایک موقع پر جب انہوں نے سکیورٹی خدشات اور  سائبر حملوں کے باعث سوشل میڈیا پر اپ ڈیٹس دینا عارضی طور پر روک دیا تو ان کے لاکھوں فالوورز میں تشویش پھیل گئی۔ کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پلاسٹک کو ایندھن میں تبدیل کرنے کا بڑا منصوبہ

جولین براؤن کا اصل ہدف صرف ایک مشین تیار کرنا نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بنانا ہے۔ وہ مستقبل میں ایسے مقامی مراکز قائم کرنے کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں پلاسٹک کا کچرا جمع کیا جائے اور اسی جگہ اسے ایندھن میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر یہ نظام بڑے پیمانے پر مؤثر اور محفوظ ثابت ہوتا ہے تو پلاسٹک کے فضلے کو ایک بوجھ کے بجائے قابل استعمال وسیلے میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہیکنگ سے بچاؤ کیلئے واٹس ایپ کا نیا سیکیورٹی فیچر متعارف

تاہم ماہرین کے نقطہ نظر سے ایسی ٹیکنالوجی کی حقیقی افادیت کا اندازہ لگانے کے لیے اس کی توانائی کی کھپت، ماحولیاتی اثرات، پیداوار کی لاگت، حفاظتی تقاضوں اور بڑے پیمانے پر استعمال کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ ضروری ہوگا۔ صرف پلاسٹک کو مائع ایندھن میں تبدیل کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مکمل عمل مجموعی طور پر ماحول کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔

اس کے باوجود جولین براؤن کی کہانی ایک ایسے نوجوان کی مثال ہے جس نے کم عمری میں ایک بڑے ماحولیاتی مسئلے کو چیلنج کے طور پر لیا اور محدود وسائل کے باوجود برسوں تک تجربات جاری رکھے۔

editor

Related Articles