ایران امریکا کشیدگی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

ایران امریکا کشیدگی ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی حملوں کے دوبارہ خدشات کے باعث علاقائی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق آج جمعرات کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 43 سینٹ یعنی 0.45 فیصد کمی کے بعد 95.20 ڈالرز فی بیرل ہو گئی۔

دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 24 سینٹ یعنی 0.26 فیصد کمی کے بعد 90.77 ڈالرز فی بیرل پر آ گئی۔

مارکیٹ میں سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں خطے سے تیل کی سپلائی کو لاحق خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے خدشات کے باعث خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوج نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 40 تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کی، جن پر مجموعی طور پر تقریباً 18 ملین بیرل تیل لدا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ  کے مطابق یہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی جانب سے کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا حفاظتی آپریشن تھا۔

رائٹرز کے مطابق اگست میں کیے گئے تجزیہ کاروں کے سروے میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ 2026 کے دوران تیل کی قیمتیں 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہ سکتی ہیں، کیونکہ سمندری راستوں میں خلل کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے ، پیٹرولیم ڈویژن نے 3 ستمبر کے لیے پیٹرول 2 روپے 29 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت بھی 1 روپے 11 پیسے بڑھا دی گئی ہے۔

editor

Related Articles