دنیا کا سب سے بڑا میٹھے پانی کا کچھوا، 2 میٹر سے زیادہ لمبا دیوہیکل کچھوا دریافت

دنیا کا سب سے بڑا میٹھے پانی کا کچھوا، 2 میٹر سے زیادہ لمبا دیوہیکل کچھوا دریافت

تقریباً 1 کروڑ سال پہلے جنوبی امریکا کے دریاؤں اور دلدلی علاقوں میں ایک ایسا دیوہیکل کچھوا پایا جاتا تھا جس کا تصور آج بھی حیران کر دیتا ہے۔

اس کا نام اسٹوپینڈیمس جیوگرافیکس تھا۔ یہ اب تک دریافت ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا میٹھے پانی کا کچھوا سمجھا جاتا ہے۔ اس کچھوے کا خول 2 میٹر سے بھی زیادہ لمبا ہوسکتا تھا، یعنی ایک عام انسان کے قد سے بھی بڑا۔ اس کے فوسلز جنوبی امریکا کے شمالی علاقوں میں ایسی چٹانوں سے ملے ہیں جن کی عمر تقریباً 13 سے 5 ملین سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:3 گھنٹے کا پہاڑی سفر چند منٹوں میں تبدیل، بچوں کے لیے پہاڑی پر لفٹ تعمیر

اس دیوہیکل کچھوے کی ایک خاص بات نر کچھوے تھے۔ بعض نر اسٹوپینڈیمس کے خول کے اگلے حصے سے بڑی ہڈی نما نوکیں یا سینگ نکلے ہوئے تھے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ سینگ ممکنہ طور پر نر کچھوؤں کے درمیان مقابلے یا مادہ کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہوں گے۔

فوسلز سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کچھوے کے خول کی شکل عمر کے ساتھ تبدیل ہوتی تھی۔ کم عمر بالغ کچھوؤں کا خول وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ چپٹا ہوجاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:صرف چند منٹوں میں آسمان کا رنگ بدل گیا، چین میں حیرت انگیز منظر

2021 میں بیان کیے گئے ایک فوسل سے اس کی خوراک کے بارے میں بھی دلچسپ معلومات سامنے آئیں۔ شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ اسٹوپینڈیمس کسی ایک مخصوص خوراک پر انحصار نہیں کرتا تھا بلکہ دستیاب مختلف غذائیں کھاتا تھا۔

سوچیے، لاکھوں سال پہلے جنوبی امریکا کے دریاؤں میں 2 میٹر سے زیادہ لمبا کچھوا تیر رہا ہو۔ اس دور میں وہاں کی آبی دنیا ایسی مخلوقات سے آباد تھی جو آج کے جانوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی اور عجیب و غریب تھیں۔

editor

Related Articles