ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ پنجاب کے شہر نارووال کے نواحی علاقے اڈا سراج میں واقع صدی پرانے ہندو مندر کو بارش سے نقصان پہنچا اور اس حوالے سے بھارتی پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان نارووال مندر پر بھارتی بیان کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے، بھارتی وزارت خارجہ نے بیان جھوٹا اور سیاسی مفاد کے لیے دیا۔
انہوں نے کہا کہ اڈہ سراج مندر کی عمارت 21 جولائی کو موسلادھار بارشوں کے باعث متاثر ہوئی ، مقامی حکام نے بارش سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لے کر مندر کی بحالی کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت کا حقائق مسخ کرنا اور سستی سیاسی چالوں کا سہارا لینا شرمناک ہے ، بھارت کی حقائق مسخ کرنے کی کوششیں اقلیتوں پر ظلم کے بدترین ریکارڈ سے توجہ نہیں ہٹا سکتیں ، بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر ریاستی سرپرستی میں حملوں سے دنیا بخوبی آگاہ ہے، جہاں ہندوتوا نظریے کو اقلیتوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی قیادت کو مسلمان، سکھ اور مسیحی برادریوں کے خلاف مظالم پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
قبل ازیں پنجاب کے وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا اس حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ مندر کو گرائے جانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط اور حقیقت کے برعکس ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود موقع پر جا کر صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور حقائق یہ ہیں کہ حال ہی میں ہونے والی موسلا دھار اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے مندر کی قدیم عمارت کا صرف ایک حصہ منہدم ہوا تھا، جسے کوئی انسانی کارروائی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔