وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے پیپلزپارٹی کی سیاسی پوزیشن نئے انتظامی یونٹس بلدیاتی نظام اور پاکستان تحریک انصاف کے طرزِ سیاست پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی سیاسی حیثیت ختم ہوچکی ہے اور وہ اپنی بقا کے لیے صوبوں کا معاملہ سندھ اسمبلی میں لے کر آئی ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری قابل احترام ہیں تاہم ان کے خیال میں آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت پارٹی کو اس کا سابقہ سیاسی مقام واپس دلانے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 15 برس کے دوران پیپلزپارٹی نے سندھ میں اپنی سیاسی ساکھ کھوئی ہے اور موجودہ قیادت ماضی میں پارٹی کو حاصل مقام بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ملک کا موجودہ نظام مفلوج ہوچکا ہے تاہم اس نظام کو درست کرنا حکومت اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو مؤثر اور مربوط بلدیاتی نظام اور انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے اگر جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو اس کے ثمرات صرف وفاقی یا صوبائی سطح تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ جمہوریت اور اختیارات نچلی سطح تک بھی منتقل ہونے چاہئیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت بھی صوبوں کو نچلی سطح پر بلدیاتی حکومتیں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم اس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جاسکتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر انتظامی یونٹ کی اپنی الگ اسمبلی یا وزیراعلیٰ ہو۔
ان کے مطابق ملک کے موجودہ ڈویژنز کو بھی انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کی اصطلاح بعض اوقات ایسے معاملات کو روکنے کیلئے استعمال کی جارہی ہے جنہیں انتظامی بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے اس بات پر زور دیا کہ انتظامی معاملات اور عوام کو اختیارات کی منتقلی کو سیاسی تنازعات سے الگ کرکے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ بہتر طرز حکمرانی کیلئے مضبوط اور مؤثر مقامی حکومتیں ضروری ہیں۔
خواجہ آصف کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سندھ اسمبلی میں سندھ کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر شدید سیاسی بحث جاری ہے۔
سندھ اسمبلی نے 3 ستمبر کو سندھ کی تقسیم اور صوبے کی حدود میں تبدیلی کے خلاف قرارداد بھی منظور کی۔ قرارداد میں سندھ کو ناقابل تقسیم قرار دیتے ہوئے موجودہ حدود میں کسی بھی تبدیلی کو مسترد کیا گیا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے احتجاج اور واک آؤٹ بھی کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واضح کیا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، جبکہ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر بات ہوسکتی ہے، لیکن اسے سندھ کی تقسیم کے معاملے کے ساتھ نہیں ملایا جانا چاہیے۔
خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ دو تین سال کے سیاسی رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنے طرزِ سیاست میں کچھ ترمیم کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جس طرح کی زبان استعمال کی جاتی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کرچکی ہے کہ اب کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پی ٹی آئی نے قومی معاملات پر موجودہ سیاسی نظام میں رہتے ہوئے کسی جگہ بھی سنجیدہ گفتگو نہیں کی۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کے نمائندے آتے ہیں تو زیادہ تر صرف بانی پی ٹی آئی کے معاملے پر بات کرتے ہیں، جبکہ قومی معاملات پر بھی سنجیدہ سیاسی گفتگو ہونی چاہیے۔
خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی کے بچوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے انہیں پاکستان آکر اپنے والد سے ملاقات کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کو ملاقات سے کسی نے نہیں روکا۔
خواجہ آصف کی گفتگو کا ایک اہم پہلو مقامی حکومتوں اور انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں جمہوری نظام کو مؤثر بنانا ہے تو عوام کو ان کے مسائل کے حل کیلئے مقامی سطح پر بااختیار بنانا ہوگا۔
ان کے مطابق موجودہ نظام کی خامیوں کو دور کرنے کیلئے مربوط بلدیاتی ڈھانچہ، مؤثر انتظامی یونٹس اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔