دنیا میں ایسی بہت کم جگہیں ہیں جہاں قدرت کا ایک ہی منظر صدیوں سے لوگوں کو حیران کر رہا ہو۔ جنوبی امریکی ملک وینزویلا کی جھیل ماراکائیبو کے جنوب مغربی حصے میں واقع دریائے کیٹٹومبو کے دہانے کے قریب آسمان اکثر رات کے اندھیرے میں اچانک روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔
اس حیرت انگیز قدرتی مظہر کو کیٹٹومبو لائٹننگ کہا جاتا ہے، جسے مقامی لوگ کیٹٹومبو کا مینار بھی کہتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق جھیل ماراکائیبو کا علاقہ زمین پر بجلی گرنے اور گرج چمک کے طوفانوں کے سب سے زیادہ فعال مقامات میں شامل ہے۔ ایک تفصیلی مطالعے میں معلوم ہوا کہ یہاں اوسطاً سال کے تقریباً 297 دن گرج چمک کے طوفان پیدا ہوتے ہیں۔
کیٹٹومبو لائٹننگ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں بجلیوں کی سرگرمی زیادہ تر رات کے وقت عروج پر پہنچتی ہے۔ دن کے وقت سورج کی گرمی جھیل اور اس کے گرد موجود زمین کو مختلف انداز میں گرم کرتی ہے۔ رات ہونے پر پہاڑوں، زمین اور جھیل سے آنے والی ہوائیں ایک مخصوص علاقے میں جمع ہوتی ہیں۔ گرم اور مرطوب ہوا اوپر اٹھتی ہے، بادل بنتے ہیں اور پھر طاقتور گرج چمک کے طوفان پیدا ہوتے ہیں۔
ناسا کے مطابق جھیل ماراکائیبو کی گرم اور مرطوب فضا، اردگرد موجود پہاڑی سلسلے اور مختلف سمتوں سے آنے والی ہواؤں کا ملاپ اس علاقے کو بجلیوں کے لیے ایک قدرتی مرکز بنا دیتا ہے۔
دنیا کے سب سے زیادہ بجلی والے مقامات میں شامل
ناسا کے سیٹلائٹ مشاہدات کے مطابق جھیل ماراکائیبو زمین کے نمایاں ترین لائٹننگ ہاٹ اسپاٹس میں شامل ہے۔ ایک تحقیق میں یہاں بجلی گرنے کی اوسط شرح تقریباً 233 فلیش فی مربع کلومیٹر سالانہ ریکارڈ کی گئی۔ سائنس دانوں نے اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے کئی برسوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا کا مطالعہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دوسری تحقیق میں 2012 سے 2015 کے دوران اوسطاً 304 دن ایسے ریکارڈ کیے گئے جب جھیل کے اوپر کم از کم ایک بجلی گری، جبکہ پہلے سیٹلائٹ مطالعے میں یہ اوسط 297 دن سامنے آئی تھی۔
صدیوں پہلے ملاحوں کے لیے قدرتی مینار
کیٹٹومبو لائٹننگ صرف جدید سائنس کے لیے ہی دلچسپ نہیں بلکہ اس کی تاریخ بھی صدیوں پرانی ہے۔ رات کے وقت مسلسل چمکنے والی بجلیاں اتنی نمایاں ہوتی تھیں کہ کیریبین سمندر میں سفر کرنے والے ملاح انہیں دور سے دیکھ کر اپنی سمت کا اندازہ لگاتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مظہر کو لائٹ ہاؤس آف کیٹٹومبو یعنی کیٹٹومبو کا مینار بھی کہا جاتا ہے۔ ناسا اور دیگر سائنسی ذرائع کے مطابق اس قدرتی روشنی کا استعمال ماضی میں سمندری سفر کے دوران رہنمائی کے لیے کیا جاتا تھا۔
کیا اس کے پیچھے صرف میتھین گیس ہے؟
ماضی میں بعض نظریات میں علاقے میں موجود میتھین گیس کو کیٹٹومبو لائٹننگ کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا گیا، تاہم جدید سائنسی تحقیق اس مظہر کو صرف ایک وجہ سے نہیں جوڑتی۔ تحقیق کے مطابق جھیل کا درجہ حرارت، پانی سے پیدا ہونے والی نمی، اردگرد کی پہاڑی جغرافیہ اور مختلف مقامی ہواؤں کا آپس میں ملاپ گرج چمک کے بادلوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تازہ مشاہداتی تحقیق، جس میں 2014 سے 2024 تک کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، میں بھی بجلی کی سرگرمی کو گہرے طوفانی بادلوں اور جھیل کے پانی کے درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں سے جوڑا گیا ہے۔
کب سب سے زیادہ بجلی چمکتی ہے؟
تحقیقی مشاہدات کے مطابق جھیل ماراکائیبو میں بجلیوں کی سرگرمی پورے سال ایک جیسی نہیں رہتی۔ عام طور پر اگست سے اکتوبر کے دوران سرگرمی زیادہ دیکھی گئی ہے، جبکہ اپریل اور مئی میں بھی بجلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب بعض مہینوں میں سرگرمی نسبتاً کم رہتی ہے۔
کیٹٹومبو لائٹننگ آج بھی سائنس دانوں کے لیے ایک دلچسپ قدرتی تجربہ گاہ ہے۔ ایک طرف یہ دنیا کے سب سے منفرد موسمی مظاہر میں شامل ہے، دوسری طرف یہ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ زمین پر موجود جھیلیں، پہاڑ، ہوا اور درجہ حرارت مل کر ایسے قدرتی مناظر پیدا کرسکتے ہیں جو دیکھنے میں کسی سائنس فکشن فلم سے کم نہیں لگتے۔
وینزویلا کی جھیل ماراکائیبو کے اوپر جب رات کے اندھیرے میں بار بار بجلی چمکتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قدرت نے آسمان میں اپنا مستقل لائٹ شو لگا رکھا ہو۔