تصور کریں آپ اپنے باغ کی صفائی کر رہے ہوں اور اچانک زمین سے ایک ہزار سال پرانا خزانہ نکل آئے۔ ڈنمارک میں ایک شخص کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا، جہاں باغ کی صفائی کے دوران وائی کنگ دور کا اب تک کا سب سے بڑا چاندی کا ذخیرہ دریافت ہوا۔
دلچسپ واقعہ شمالی ڈنمارک کے علاقے ریبلڈ میں پیش آیا، جہاں ایک شخص اپنے گھر کے باغ کو نئے ٹیرس کی تعمیر کے لیے صاف کر رہا تھا۔ باغ سے گھاس اور پتھر ہٹانے کے دوران اس کا ہاتھ زمین میں دبی کسی دھاتی چیز سے ٹکرایا۔ ابتدا میں اسے لگا کہ شاید کوئی پرانا لوہا یا باڑ کی تار ہوگی، مگر جب اس نے مزید کھدائی کی تو ایک کے بعد ایک چاندی کی اشیا نکلنا شروع ہوگئیں۔
ڈنمارک کے ثقافتی ادارے نارتھ جٹ لینڈ میوزیمز کے مطابق دریافت ہونے والا خزانہ تقریباً 700 اشیا پر مشتمل ہے۔ ان اشیا میں تھور کے ہتھوڑے کی شکل کا ایک چھوٹا زیور، بریسلیٹس، چاندی کی متعدد سلاخیں، کٹی ہوئی چاندی کی اشیا اور 47 سکے شامل ہیں۔
دریافت کرنے والے شخص کے مطابق وہ کئی گھنٹوں سے باغ کی صفائی میں مصروف تھا، مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ معمول کا یہ کام اس کی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ بن جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس خزانے کا مجموعی وزن تقریباً ساڑھے 18 کلوگرام ہے، جو اس سے قبل دریافت ہونے والے اسی نوعیت کے ذخیرے سے تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ خزانے میں شامل 320 اشیا لکڑی کے ایک برتن سے ملی ہیں، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق 10ویں صدی عیسوی سے ہے، جبکہ باقی اشیا زمین کے مختلف حصوں سے برآمد ہوئیں۔
وائی کنگ دور میں چاندی صرف زیورات کے لیے استعمال نہیں ہوتی تھی بلکہ اسے ادائیگی اور تجارت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں چاندی کی قدر اس کے وزن کے مطابق طے ہوتی تھی، یہی وجہ ہے کہ اسے اکثر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا یا پگھلایا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس خزانے میں چاندی کی سلاخوں کی بڑی تعداد اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ انہیں دولت کے طور پر محفوظ کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک چاندی کی سلاخ پر ہُوتوجیسا لفظ بھی کندہ ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر خزانے کے مالک کا نام یا کوئی خاص نشان ہوسکتا ہے۔
خزانے سے ملنے والے سکے بھی اپنی جگہ ایک دلچسپ کہانی بیان کرتے ہیں۔ ان میں عرب اور اینگلو سیکسن سکے شامل ہیں، جبکہ 2 سکوں پر انگلینڈ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈ دی ایلڈر کا نام درج ہے، جنہوں نے 899 سے 924 عیسوی کے دوران حکومت کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب اور اینگلو سیکسن سکوں کی موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار سال قبل اسلامی دنیا، انگلینڈ اور وائی کنگ عہد کے لوگوں کے درمیان تجارت اور رابطے موجود تھے۔ یعنی باغ کی عام سی صفائی نے ایک شخص کو صرف چاندی کا خزانہ نہیں دیا بلکہ اسے ایک ہزار سال پرانی تاریخ سے بھی ملا دیا۔