شہباز حکومت نے اڑھائی سال میں پیٹرولیم سے کتنی رقم اکٹھی کی؟ جان کر آپکے ہوش اڑ جائیں گے

شہباز حکومت نے اڑھائی سال میں پیٹرولیم سے کتنی رقم اکٹھی کی؟ جان کر آپکے ہوش اڑ جائیں گے

موجودہ وفاقی حکومت کے ڈھائی سالہ دور میں پیٹرولیم مصنوعات نے عوام کی جیب پر بھاری بوجھ ڈالا۔ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت پٹرول 279.75 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 287.33 روپے فی لیٹر تھا  جبکہ 3 اپریل 2026 کو پیٹرول کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔

سرکاری قیمتوں کے ریکارڈ کے مطابق موجودہ حکومت کے آغاز کے وقت پیٹرول کی قیمت 279.75 روپے فی لیٹر تھی جبکہ ڈیزل 287.33 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔ یکم مارچ 2024 کی سرکاری قیمتوں کی تصدیق وزارتِ خزانہ کے اعلان سے بھی ہوتی ہے۔

یعنی بلند ترین سطح پر موازنہ کیا جائے تو ڈھائی سال کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 178.66 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 233.02 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا۔

پٹرول 458، ڈیزل 520 روپے تک کیسے پہنچا؟

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سب سے بڑا جھٹکا 2026 میں عالمی تیل کی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے دوران آیا۔ 3 اپریل کو پٹرول 458.41 روپے اور ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ بعد ازاں عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے ساتھ ملکی قیمتیں بھی نیچے آئیں۔

تاہم بلند ترین سطح گزر جانے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف نہیں ملا۔ 5 ستمبر 2026 سے 7 ستمبر تک پٹرول 345.87 روپے اور ڈیزل 378.05 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔

اس حساب سے حکومت کے آغاز کے مقابلے میں آج بھی پٹرول تقریباً 66 روپے فی لیٹر اور ڈیزل تقریباً 91 روپے فی لیٹر مہنگا ہے۔

عوام سے پٹرولیم لیوی کی ریکارڈ وصولی

سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1,220 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ رقم بڑھ کر ریکارڈ تقریباً 1,567 ارب روپے ہوگئی۔

یوں صرف ان دو مالی سالوں میں پٹرولیم لیوی کی وصولی تقریباً 2,787 ارب روپے بنتی ہے۔

اس کے علاوہ 2024 کے آخری تین ماہ کی لیوی وصولی کے حوالے سے بھی تقریباً 299.63 ارب روپے کا ہندسہ سامنے آتا ہے۔ اس طرح موجودہ حکومت کے دور میں پٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولی 3 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے، جبکہ فراہم کردہ سرکاری اعداد کے مطابق مجموعی رقم تقریباً 3,137 ارب روپے بتائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کی دستاویز میں بھی پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے لیے 1,468.395 ارب روپے کا ہدف درج تھا، جبکہ بعد میں وصولی اس سے زیادہ رہی۔

ایک لیٹر پر حکومت کا کتنا بوجھ؟

موجودہ قیمتوں کے ڈھانچے میں پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ 5 روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی وصول کی جارہی ہے۔

ڈیزل پر بھی 80 روپے پٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔ 4 ستمبر کی قیمتوں کے ڈھانچے کے مطابق پٹرول پر کسٹمز ڈیوٹی تقریباً 20.65 روپے اور ڈیزل پر 15.68 روپے فی لیٹر تھی۔ دونوں مصنوعات پر او ایم سی مارجن 7.87 روپے جبکہ ڈیلر مارجن 9.98 روپے فی لیٹر ہے۔

یعنی صارف جب پٹرول پمپ پر ایک لیٹر خریدتا ہے تو پوری رقم خام تیل یا ریفائنری کی قیمت نہیں ہوتی؛ اس میں حکومت کی لیویز، کسٹمز ڈیوٹی، فریٹ اور دیگر مقررہ مارجنز بھی شامل ہوتے ہیں۔

ڈیلرز کا مارجن بھی بڑھا دیا گیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام پر ایک اور بوجھ اگست 2026 میں اس وقت پڑا جب حکومت نے پٹرول پمپ ڈیلرز کا مارجن بڑھا دیا۔

حکومت نے ڈیلرز کا مارجن 8.64 روپے سے بڑھا کر 9.98 روپے فی لیٹر کردیا، یعنی فی لیٹر 1.34 روپے اضافہ ہوا۔ یہ تقریباً 15.5 فیصد اضافہ ہے اور یکم ستمبر 2026 سے مؤثر ہوا۔

اس اضافے کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول یا ڈیزل کا ایک لیٹر خریدنے والا صارف اب ڈیلر مارجن کی مد میں پہلے سے 1.34 روپے زیادہ ادا کررہا ہے۔

صرف ٹیکس نہیں، عوام نے فی لیٹر قیمت بھی ادا کی

یہاں اصل سوال یہ ہے کہ حکومت نے لیوی اور دیگر محصولات کی مد میں کتنی رقم حاصل کی اور عوام نے پٹرولیم مصنوعات خریدنے کے لیے مجموعی طور پر کتنی رقم خرچ کی۔

3,137 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی رقم ہے، عوام کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی مجموعی خریداری کی رقم نہیں۔ مجموعی عوامی ادائیگی معلوم کرنے کے لیے اس عرصے میں فروخت ہونے والے پٹرول اور ڈیزل کے کل حجم کو ہر دور کی متعلقہ قیمت سے ضرب دینا ہوگا۔ اس لیے صرف لیوی کے اعداد کو عوام کی مکمل پٹرولیم ادائیگی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی کے ذریعے ہزاروں ارب روپے حاصل کیے جبکہ اسی عرصے میں صارفین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکسوں، لیویز اور دیگر چارجز کی شکل میں مسلسل بھاری رقم ادا کی۔

آج بھی عوام کو سستا پٹرول کیوں نہیں مل رہا؟

5 ستمبر 2026 سے پٹرول کی قیمت کم ہوکر 345.87 روپے ہوئی ہے، تاہم یہ اب بھی مارچ 2024 کے 279.75 روپے کے مقابلے میں تقریباً 66 روپے فی لیٹر زیادہ ہے۔ دوسری طرف ڈیزل 287.33 روپے سے بڑھ کر موجودہ 378.05 روپے فی لیٹر ہے، یعنی تقریباً 91 روپے فی لیٹر زیادہ۔

پٹرول کی قیمت میں حالیہ کمی کے باوجود حکومت نے فی لیٹر لیوی اور دیگر چارجز برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ڈیلرز کے مارجن میں بھی یکم ستمبر سے اضافہ ہوچکا ہے۔

ڈھائی سال کا پٹرولیم حساب

موجودہ حکومت کے ڈھائی سالہ دور کا پٹرولیم حساب دیکھا جائے تو تصویر واضح ہے: اقتدار سنبھالتے وقت پٹرول 279.75 اور ڈیزل 287.33 روپے فی لیٹر تھا، قیمتیں بعد میں تاریخی بلند ترین سطحوں تک پہنچیں، حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں ہزاروں ارب روپے اکٹھے کیے اور فی لیٹر لیوی و دیگر چارجز بھی صارفین سے وصول کیے۔

دوسری جانب عوام کو ہر پندرہ روز یا اب روزانہ عالمی منڈی، روپے کی قدر اور دیگر عوامل کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی کا سامنا رہا۔ موجودہ نظام میں قیمت کم ہونے کی صورت میں بھی پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر مقررہ چارجز قیمت کا اہم حصہ برقرار رکھتے ہیں۔

یوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ صرف پٹرول سستا یا مہنگا ہونے تک محدود نہیں رہا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ایک لیٹر پٹرول یا ڈیزل کی قیمت میں سے عوام کتنی رقم حکومت کو بطور لیوی اور ٹیکس دے رہے ہیں، ڈیلر اور آئل مارکیٹنگ کمپنی کو کتنا مل رہا ہے اور اصل پٹرولیم لاگت کتنی ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles