جناح ہاؤس حملہ کیس کے مبینہ ملزم اور کافی عرصے سے روپوش پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر کو لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کر دیا گیا ہے، جہاں پولیس نے تفتیش کے لیے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔
انویسٹی گیشن پولیس آفیسر نے عدالت میں استدعا کی کہ 18 مقدمات میں مطلوب ملزم سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد حتمی چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔
لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) میں جناح ہاؤس حملہ کیس کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس کی جانب سے مبینہ ملزم حماد اظہر کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔
پیشی کے موقع پر لاہور پولیس کی انویسٹی گیشن ٹیم نے فاضل عدالت سے ملزم سے تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ دینے کی باقاعدہ استدعا کی۔
عدالت میں پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم حماد اظہر جناح ہاؤس حملہ کیس میں کافی عرصے سے اشتہاری تھے اور وہ اب گرفتار ہوئے ہیں۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ کیس کے تمام تانے بانے جوڑنے اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ اور تفتیش انتہائی درکار ہے۔
18 مقدمات اور 3 سالہ روپوشی
ترجمان انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق حماد اظہر لاہور پولیس کو سنگین نوعیت کے 18 مختلف مقدمات میں مطلوب تھے۔
انویسٹی گیشن پولیس کا کہنا ہے کہ اشتہاری ملزم حماد اظہر گزشتہ 3 سال سے مسلسل روپوش تھے اور قانون کی گرفت سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد تفتیشی عمل کو بلا تاخیر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم سے تمام پہلوؤں پر تفتیش مکمل کرنے کے فوراً بعد جامع چالان تیار کر کے انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔
9 مئی اور جناح ہاؤس واقعہ
9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر کے مختلف شہروں میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔
اس دوران لاہور میں واقع تاریخی عمارت جناح ہاؤس (کور کمانڈر ہاؤس) پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی گئی اور عمارت کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں ملوث کئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کیے تھے، جن میں حماد اظہر بھی نامزد تھے اور تب سے مسلسل روپوش چلے آ رہے تھے۔
قانون کی بالادستی اور کیس پر اثرات
واضح رہے کہ حماد اظہر کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیشی اس کیس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
3 سالہ طویل روپوشی کے بعد ملزم کا قانون کی گرفت میں آنا اور 18 مختلف مقدمات کا سامنا کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانونی عمل کی کڑیاں بالاخر مکمل ہو رہی ہیں۔