ایکس نے کانٹیننٹ کریئیٹرز کیلئے آمدنی کا نیا نظام متعارف کرا دیا

ایکس نے کانٹیننٹ کریئیٹرز کیلئے آمدنی کا نیا نظام متعارف کرا دیا

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے دنیا بھر کے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے آمدنی کا نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کر دیا، جس کے تحت اصل اور معیاری مواد تخلیق کرنے والوں کو مالی فائدہ پہنچانے پر توجہ دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا بنیادی مقصد پلیٹ فارم پر موجود کاپی شدہ ، چوری شدہ اور غیرمعیاری مواد کی حوصلہ شکنی کرنا اور اوریجنل کانٹینٹ تیار کرنے والے کریئیٹرز کو بہتر انداز میں ریوارڈ دینا ہے۔

ایکس کی جانب سے کریئیٹرز کو بھیجے گئے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئے نظام کو ’اوریجنل کانٹینٹ ریوارڈز پروگرام‘ کا نام دیا گیا ہے۔

 اوریجنل مواد بنانے والوں کو ملے گا مالی فائدہ

ایکس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق آج  7 ستمبر 2026 کو موجودہ ایڈز ریوینیو شیئرنگ پروگرام مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، جبکہ 8 ستمبر 2026 سے نئے اوریجنل کانٹینٹ ریوارڈز پروگرام کے لیے درخواستوں کی وصولی کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔

اس حوالے سے ایکس نے واضح کیا ہے کہ جن صارفین کی شناختی تصدیق پہلے سے مکمل ہے اور جن کا ادائیگی کا ذریعہ منسلک ہے، انہیں یہ مراحل دوبارہ طے کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی ، صارفین اپنے کریئیٹر اسٹوڈیو میں جا کر کسی بھی وقت اپنی اہلیت چیک کر سکیں گے۔

کاپی شدہ ویڈیوز اور پوسٹس سے کمائی کا رجحان

پاکستان اور چند دیگر ممالک میں جب سے ایکس نے مونیٹائزیشن کا سلسلہ شروع کیا تھا، تب سے پلیٹ فارم پر مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے تھے جن میں  ریوینیو حاصل کرنے کی دوڑ میں بہت سے اکاؤنٹس نے غیر معمولی تعداد میں ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کرنا شروع کر دیں۔

کچھ مشہور صحافیوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز نے تو باقاعدہ ایسی ٹیموں کو ملازمت دے رکھی تھی  جن کا واحد کام ٹی وی چینلز کی لائیو نشریات سے ویڈیو کلپس کاٹ کر فوری طور پر ایکس پر اپ لوڈ کرنا تھا۔

اس کے علاوہ ایک بڑا طبقہ ایسا بھی تھا جو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، مثلاً ٹک ٹاک، فیس بک یا انسٹاگرام سے وائرل ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرکے ایکس پر پوسٹ کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں :ایپل سے پہلے ہواوے اور شیاؤمی کا بڑا سرپرائز ، تین حصوں میں فولڈ ہونیوالا فون آخر کتنا خاص ہے ؟

ان کریئیٹرز کا خیال تھا کہ دوسرے پلیٹ فارم کی ویڈیو ایکس پر ڈالنے سے اس کا الگورتھم اسے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے طور پر پکڑ نہیں سکے گا اور اس طرح مفت میں انگیجمنٹ حاصل کرکے انہیں ڈالرز ملتے رہیں گے۔

اس تمام صورتحال نے ایکس کی فیڈ کو غیر معتبر اور کاپی شدہ مواد سے بھر دیا تھا، جس کے بعد یہ سوال گردش کرنے لگا کہ پلیٹ فارم پر کتنے صارفین واقعی محنت کرکے اوریجنل مواد تیار کر رہے ہیں اور کتنے صرف کاپی پیسٹ کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔

ایسے میں ایکس کی جانب سے نیا ریوارڈ پروگرام متعارف کرانے کو پلیٹ فارم پر اوریجنل مواد کی حوصلہ افزائی اور کاپی شدہ مواد کی حوصلہ شکنی کی جانب اہم پیشرفت ہے۔

editor

Related Articles