برطانیہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاری کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پابندیوں کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ برطانوی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی بستیاں غیر قانونی ہیں اور فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے میں ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور اس حوالے سے عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔
مغربی کنارے میں بستیاں غیر قانونی قرار
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی بستیاں غیر قانونی ہیں ،انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری میں مسلسل اضافہ اور فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی تعمیر خطے میں امن کے امکانات کو مزید نقصان پہنچا رہی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کیے جانے کے واقعات بھی تشویش ناک ہیں اور ایسے اقدامات فلسطینیوں کے حقوق اور مستقبل پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے طرز عمل سے اختلاف
برطانوی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ برطانیہ کا اختلاف اسرائیل کے عوام سے نہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کی بعض پالیسیوں اور طرز عمل سے ہے،انہوں نے کہا کہ برطانیہ اسرائیل کی سلامتی کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے حقوق، بین الاقوامی قانون اور ایک منصفانہ سیاسی حل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کے علاقوں سے زبردستی نکالے جانے کے واقعات تشویش کا باعث ہیں،ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلی آباد کاری میں توسیع سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں دو ریاستی حل کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل کو ہتھیاروں کے لائسنس معطل
برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق برطانیہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے سے متعلق 30 لائسنس پہلے ہی معطل کر چکا ہے،انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ برطانیہ کی پالیسیاں اور اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق ہوں۔
دو ریاستی حل پر برطانیہ کا مؤقف
برطانیہ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کا دیرپا اور منصفانہ حل دو ریاستوں کے قیام میں ہے،برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق ایک ایسا سیاسی حل ضروری ہے جس کے تحت اسرائیل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہ سکیں،انہوں نے زور دیا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی آباد کاری، فلسطینیوں کی بے دخلی اور کشیدگی میں اضافے کے اقدامات کو روکنا خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے۔
اسرائیلی آباد کاری پر دباؤ بڑھنے کا امکان
برطانیہ کے تازہ مؤقف اور پابندیوں کے اعلان کو اسرائیلی آباد کاری کے معاملے پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے،مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری، فلسطینی علاقوں سے بے دخلی اور دو ریاستی حل کے مستقبل کا معاملہ عالمی سطح پر بدستور اہم سفارتی اور سیاسی موضوع بنا ہوا ہے۔