وزیراعظم شہباز شریف نے نئی آٹو پالیسی کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد ملک کی آٹو موبائل صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے، مقامی پیداوار کو فروغ دینے، گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
نئی آٹو پالیسی کے مسودے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں ایک عرصے سے زیر التوا پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اصولی منظوری کے بعد پالیسی کو آئندہ مرحلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، آئی ایم ایف سے منظوری حاصل ہونے کے بعد آٹو پالیسی کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
کابینہ اور پارلیمنٹ سے منظوری
ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مرحلے کے بعد نئی آٹو پالیسی وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی جائے گی، کابینہ سے منظوری کے بعد پالیسی کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے،حکومت کا مقصد نئی پالیسی کے ذریعے آٹو سیکٹر میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعت کے لیے واضح پالیسی فریم ورک فراہم کرنا ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں کیلئے ریلیف
مجوزہ پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کی تجاویز شامل کی گئی ہیں، ذرائع کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ پانچ سال کے دوران ٹیکس میں مجموعی طور پر 20 فیصد کمی کی تجویز زیر غور ہے،800 سی سی تک اور 851 سے 1000 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے درآمدی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے۔
بڑی ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز
نئی پالیسی کے تحت 1800 سی سی سے زیادہ انجن والی ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر بھی پانچ سال کے دوران مرحلہ وار ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے،ذرائع کے مطابق 1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی کو پانچ سال کے عرصے میں 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز ہے،اسی طرح 1501 سے 1800 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی درآمدی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں کیلئے بھی تجاویز
مجوزہ آٹو پالیسی میں ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں کے حوالے سے بھی مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیں، ذرائع کے مطابق ہائبرڈ ٹرکوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے،ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر ڈیوٹی 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد جبکہ ہائبرڈ بسوں پر درآمدی ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد تک لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
برآمدات اور مقامی پیداوار پر توجہ
نئی آٹو پالیسی کے بنیادی اہداف میں مقامی آٹو انڈسٹری کو مضبوط بنانا اور ملک میں گاڑیوں کی تیاری کا حجم بڑھانا شامل ہے، حکومت پالیسی کے ذریعے مقامی سطح پر پیداوار، سرمایہ کاری اور گاڑیوں کے برآمدی امکانات کو بڑھانا چاہتی ہے،پالیسی میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور تحقیق و ترقی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
بڑی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی کی تجویز
ذرائع کے مطابق حکومت آٹو پالیسی کے تحت بڑی انجن کی حامل گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے،اس اقدام سے حاصل ہونے والی آمدن کو برآمدات کے فروغ، تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کی تجویز ہے،
مجوزہ فارمولے کے تحت 2001 سے 3000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 10 فیصد ماحولیاتی لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 3001 سی سی یا اس سے بڑی گاڑیوں پر 19.5 فیصد لیوی کی تجویز زیر غور ہے۔
142 ارب روپے سے زائد آمدن کا تخمینہ
ذرائع کے مطابق مجوزہ ماحولیاتی لیوی سے آئندہ پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 142.79 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے،حکومت اس رقم کو آٹو سیکٹر کی برآمدی صلاحیت بڑھانے اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
آئی ایم ایف کی منظوری اہم مرحلہ
نئی آٹو پالیسی پر حتمی عملدرآمد سے قبل آئی ایم ایف کی منظوری کو اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے،ذرائع کے مطابق پالیسی کا مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اور اس کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے منظوری کا عمل مکمل کیا جائے گا،حکومتی منظوریوں کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد نئی آٹو پالیسی 2026-31 پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔
صنعت کیلئے نئی سمت متوقع
نئی پالیسی کے ذریعے حکومت آٹو سیکٹر کو روایتی پیداوار سے آگے لے جاتے ہوئے برآمدات، مقامی ویلیو ایڈیشن، ہائبرڈ ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا چاہتی ہے،اگر مجوزہ اقدامات منظوری کے بعد اسی شکل میں نافذ کیے جاتے ہیں تو ہائبرڈ گاڑیوں سمیت مختلف کیٹیگریز کی درآمدی لاگت، مقامی صنعت کی سرمایہ کاری اور مستقبل میں گاڑیوں کی برآمدات پر اس کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
