پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور سیاسی بریک تھرو کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر بات چیت جاری ہے اور عمران خان اسی سال جیل سے باہر آجائیں گے۔
اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، حکومت کی کارکردگی اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق اہم دعوے کیے۔
اسلم گھمن نے تصدیق کی کہ عمران خان کی رہائی اور موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات ہورہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں شامل بعض افراد سے ان کی بات چیت بھی ہوئی ہے، تاہم انہوں نے مذاکرات کرنے والی شخصیات کے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام ان کے لیے امانت ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ملک میں ایک بڑے سیاسی بریک تھرو کی راہ ہموار کرنا ہے تاہم انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات فریقین یا ممکنہ فارمولے کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اصولوں پر قائم ہیں اور وہ کسی صورت اس بات پر آمادہ نہیں ہوں گے کہ ملک میں کسی ایک فرد یا گروہ کی اجارہ داری قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے امکانات موجود ہیں اور وہ اسی سال جیل سے باہر آجائیں گے انہوں نے اس دعوے کی وجہ موجودہ حکمرانوں کی مبینہ ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک اور معیشت چلانے میں ناکام ہوچکی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمرانوں کی وجہ سے ملک میں گڈ گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں انہوں نے حکمرانوں کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو درپیش مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اسلم گھمن نے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کے حوالے سے مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شریف اور ایماندار شخص قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قیصر احمد شیخ دیگر حکومتی شخصیات سے مختلف ہیں اور انہیں فارم 47 والی پیداوار قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حکومتی طرزِ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے اسلم گھمن نے کہا کہ یہ فرعونیت کی حد ہے کہ ایک وفاقی وزیر بھی وزیراعظم سے آسانی سے ملاقات نہ کرسکے۔
انہوں نے حکومتی شخصیات کے طرزِ زندگی پر بھی طنز کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ اور دیگر حکمران صرف سرکاری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں میں گھومنے کے اہل رہ گئے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان کی ممکنہ رہائی سے متعلق اسلم گھمن کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاست میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے تاہم ان کی جانب سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل تفصیلات یا مذاکرات میں شامل فریقین کے نام سامنے نہیں آئے۔
قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی حالیہ سیاسی و پارلیمانی سرگرمیوں اور قائدِ حزبِ اختلاف سے متعلق آئینی و قانونی معاملات کی تفصیلات جاری کی جاتی رہی ہیں تاہم اسلم گھمن کے بیان کردہ مبینہ مذاکرات کی کوئی باضابطہ تفصیل وہاں دستیاب نہیں۔
اسلم گھمن کے بیان نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک اہم سوال ضرور پیدا کردیا ہے کہ کیا واقعی عمران خان کی رہائی کے لیے پسِ پردہ کوئی اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں اور اگر ایسا ہے تو ان کا نتیجہ کب اور کس سیاسی فارمولے کی صورت میں سامنے آئے گا۔
فی الحال پی ٹی آئی رہنما کا دعویٰ ہے کہ بانی پی ٹی آئی اسی سال جیل سے باہر آجائیں گے جبکہ مذاکرات کی نوعیت، شرائط اور ممکنہ سیاسی بریک تھرو کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئی ہیں۔