برطانیہ میں فضائی سفر کا نظام بڑے پیمانے پر متاثر ہونے کے باعث ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لندن سمیت ملک کے اہم ہوائی اڈوں پر دو روز کے دوران تقریباً 2 ہزار پروازیں منسوخ ہوئیں یا ان کے شیڈول میں خلل پڑا۔
پہلے روز 1750 سے زائد پروازیں منسوخ
ہوا بازی کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کو برطانیہ میں 1750 سے زیادہ پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ بدھ کو مزید 153 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اس صورتحال نے بڑی تعداد میں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر کیے، جبکہ فضائی کمپنیوں کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ایئر ٹریفک کنٹرول نظام میں خرابی
رپورٹس کے مطابق اس بڑے خلل کی بنیادی وجہ ایئر ٹریفک کنٹرول نظام میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی تھی۔ خرابی کے باعث برطانیہ کی فضائی حدود میں کئی گھنٹوں تک پروازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری نہ رہ سکی۔
بعد ازاں ہوائی اڈوں پر پروازوں کی بحالی شروع کردی گئی، تاہم حکام نے واضح کیا کہ مکمل فضائی آپریشن معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
حکومت نے وضاحت طلب کرلی
برطانوی ٹرانسپورٹ وزیر ہیڈی الیگزینڈر نے فضائی ٹریفک کنٹرول کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ مارٹن رولف کو طلب کرکے نظام میں خرابی کی وجوہات کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
ادارے کے سربراہ نے متاثرہ مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ واقعہ سائبر حملے کا نتیجہ نہیں تھا۔ انہوں نے خرابی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا۔
ایئرلائنز کو بھاری نقصان
رائن ایئر کے مطابق اس واقعے سے اس کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ مسافر متاثر ہوئے جبکہ 200 سے زائد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ برٹش ایئرویز نے بھی تقریباً 100 پروازیں منسوخ کیں یا انہیں متبادل ہوائی اڈوں کی طرف منتقل کیا۔