کم عمری کی شادیوں کے رجحان کی روک تھام کیلئے نکاح رجسٹرار کے حوالے سے نئی سخت شرائط عائد کردی گئی ہیں، اب نکاح رجسٹرار کیلئے نہ صرف مقررہ اہلیت پوری کرنا بلکہ نکاح سے متعلق امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئی شرائط کے تحت کوئی نکاح رجسٹرار اپنے مقررہ دائرہ اختیار سے باہر ہونے والے نکاح کو رجسٹر نہیں کرسکے گا۔ نکاح کی رجسٹریشن صرف اسی دائرہ اختیار میں کی جاسکے گی جہاں رجسٹرار کو اس مقصد کیلئے مقرر کیا گیا ہو۔
نکاح رجسٹرار مقرر ہونے کیلئے متعلقہ اہلیت کا حامل ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ نکاح اور متعلقہ قوانین سے متعلق امتحان میں کم از کم 90 فیصد نمبر حاصل کرنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت نکاح رجسٹرار کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت بھی ضروری قرار دی گئی ہے۔ جو شخص انٹرنیٹ استعمال کرنے یا موبائل چلانے کی بنیادی صلاحیت نہیں رکھتا، اسے نکاح رجسٹرار مقرر نہ کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
نکاح کی رجسٹریشن کے عمل کو بھی زیادہ منظم بنانے کیلئے رجسٹرار کو نکاح کی تکمیل کے بعد مقررہ مدت میں اس کی رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی اور سات روز کے اندر نکاح کا ریکارڈ متعلقہ یونین کونسل کو بھجوانا ہوگا۔
اسی طرح ایسے شخص کو بھی نکاح رجسٹرار مقرر نہیں کیا جائے گا جس کے خلاف مقدمہ درج ہو یا وہ کسی قانونی کارروائی کا سامنا کررہا ہو۔
نئے اقدامات کا بنیادی مقصد نکاح کی رجسٹریشن کے نظام کو مزید شفاف بنانا اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے نکاح رجسٹرار کو بھی مؤثر ذمہ داری دینا ہے۔
پنجاب میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے 2026 میں پہلے ہی سخت قانونی فریم ورک نافذ کیا جاچکا ہے۔ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس کے تحت 18 سال سے کم عمر فرد کی شادی پر پابندی عائد کی گئی، جبکہ کم عمری کی شادی رجسٹر کرنے والے نکاح رجسٹرار یا نکاح خواں کیلئے بھی سزا مقرر کی گئی۔
قانون کے تحت نکاح رجسٹرار کم عمری کی شادی رجسٹر نہیں کرسکتا اور خلاف ورزی کی صورت میں ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ بالغ شخص کی جانب سے بچے سے شادی کرنے پر بھی سخت سزا مقرر کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کے موجودہ قانونی نظام میں نکاح کی درست رجسٹریشن پر بھی زور دیا گیا ہے۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ کے مطابق نکاح خواں سے نکاح رجسٹرار کے دائرہ اختیار میں نکاح نامہ رجسٹر کرانا ضروری ہے جبکہ متعلقہ یونین کونسل یا میونسپل کمیٹی کمپیوٹرائزڈ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔
نئے اقدامات کے بعد نکاح رجسٹرار کیلئے محض نکاح پڑھانا یا رجسٹریشن کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اسے قانونی تقاضوں، ریکارڈ کی بروقت تکمیل اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی مکمل طور پر آگاہ ہونا ہوگا۔
حکام کے مطابق نکاح رجسٹریشن کے نظام میں ذمہ داری اور جواب دہی بڑھانے سے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام میں مدد ملے گی اور نکاح کے ریکارڈ کو بھی زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جاسکے گا۔
یوں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کے بعد اب نکاح رجسٹریشن کے نظام کو بھی مزید سخت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی یا کم عمر نکاح کی رجسٹریشن کے امکانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔