ہوشربا مہنگائی کے دور میں 26,000 روپے کا بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے موٹر سائیکل بیچنے کے خواہشمند نوجوان پر 70,000 روپے کے بقایا ’ای چالانز‘ کا انکشاف ہوا ہے۔
شہری کی جانب سے محض لاعلمی کی بنیاد پر ہونے والے اس بھاری جرمانے کو معاف کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے ہوشربا بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اسی معاشی دباؤ کے پیشِ نظر ایک نوجوان نے اپنے گھر کا 26,000 روپے کا بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے اپنی واحد سواری بیچنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم اس کا یہ فیصلہ اس وقت ایک خوفناک خواب میں بدل گیا جب اسے پتا چلا کہ اس کی موٹر سائیکل پر ہزاروں روپے کے جرمانوں کا انبار لگا ہوا ہے۔
مہنگائی کا مارا شہری اور دہرا عذاب
میڈیا رپورٹ کے مطابق جب مذکورہ نوجوان اپنی موٹر سائیکل فروخت کرنے کے لیے مارکیٹ پہنچا اور گاڑی کا ریکارڈ چیک کیا گیا، تو ایک نیا مالی بحران اس کا منتظر تھا۔
انکشاف ہوا کہ اس موٹر سائیکل پر ایک یا 2 نہیں، بلکہ پورے 35 ’ای چالان‘ جاری ہو چکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 70,000 روپے بنتی ہے۔
یہ رقم اس بجلی کے بل سے لگ بھگ 3 گنا زیادہ ہے جس کی ادائیگی کے لیے وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔
سدھار بائی پاس کے کیمرے اور 35 ای چالانز
ٹریفک حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، شہری کو یہ تمام 35 چالان موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ نہ پہننے پر کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام خلاف ورزیاں سدھار بائی پاس پر نصب جدید ٹریفک کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی گئیں۔ شہری مسلسل اسی راستے سے بغیر ہیلمٹ سفر کرتا رہا اور کیمرے کی آنکھ ہر بار اس کا چالان کاٹتی رہی، جس سے وہ مکمل طور پر بے خبر تھا۔
شہری کی حکام سے اپیل
اس غیر متوقع مالی جھٹکے کے بعد نوجوان نے ٹریفک پولیس اور متعلقہ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ اس کے ذمے واجب الادا 70,000 روپے کے چالان معاف کیے جائیں۔
اس کا مؤقف ہے کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور معاشی تنگی کے باعث اپنے گھر کی بجلی کٹنے سے بچانے کے لیے اپنی سواری بیچنے پر مجبور ہوا ہے۔ اب اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ موٹر سائیکل کی مالیت کے برابر جرمانہ ادا کر سکے۔
ملک کے مختلف شہروں میں ’سیف سٹی‘ منصوبے اور کیمروں کے ذریعے ’ای چالان‘ کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
اس نظام کا مقصد ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، اکثر اوقات شہریوں کو ان کے موبائل نمبرز پر چالان کے پیغامات موصول نہیں ہوتے یا وہ اس ٹیکنالوجی سے نابلد ہوتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب شہری اپنی گاڑی بیچنے یا ٹرانسفر کروانے ایکسائز کے دفتر جاتے ہیں، تو ان پر جرمانوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔
دوسری جانب عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک نوجوان کی کہانی نہیں بلکہ موجودہ نظام کی ایک بڑی خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
ایک جانب یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ نچلا طبقہ کس قدر معاشی دباؤ کا شکار ہے کہ انہیں یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی کے لیے اپنے اثاثے بیچنا پڑ رہے ہیں۔
یہ ڈیجیٹل ٹریفک نظام کی خامی ہے کہ ایک شخص کو 35 بار قانون توڑنے تک تنبیہ نہیں کی گئی۔ اگر پہلے یا دوسرے چالان پر ہی شہری کو اس کے گھر یا فون پر مطلع کر دیا جاتا، تو جرمانے کی رقم 70,000 روپے تک نہ پہنچتی۔
ٹریفک جرمانوں کا مقصد شہریوں کی اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں کسی ایسے مالی بحران میں دھکیلنا جس سے وہ کبھی نکل ہی نہ سکیں۔