اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ناراض، پی ٹی آئی قیادت منانے کیلئے گھروں تک پہنچ گئی

اچکزئی اور راجہ ناصر عباس ناراض، پی ٹی آئی قیادت منانے کیلئے گھروں تک پہنچ گئی

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج کی کال دیے جانے کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد میں اختلافات سامنے آگئے ہیں اور احتجاجی پلان شروع ہونے سے قبل ہی سیاسی رابطوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے احتجاج کی کال سے قبل اپوزیشن اتحاد کی اہم جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کے باعث تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے تحفظات کا اظہار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کی حکمت عملی پر اپوزیشن رہنماؤں سے بروقت مشاورت نہ ہونے کے باعث دونوں رہنما فی الحال اپنے چیمبرز تک محدود ہیں، جبکہ پی ٹی آئی قیادت اب پیدا ہونے والی ناراضی ختم کرنے اور اپوزیشن جماعتوں کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے متحرک ہوگئی ہے۔

اسد قیصر ناراض رہنماؤں کو منانے پہنچ گئے

ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے تحفظات سامنے آنے کے بعد سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔

ملاقات میں 27 ستمبر کے احتجاج سمیت اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر گفتگو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اسد قیصر کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس کو احتجاج میں شرکت کی پہلی باضابطہ دعوت بھی دی گئی، جبکہ رسمی مشاورت کا آغاز بھی اسی ملاقات سے ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ احتجاج کی کال کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن اتحاد کے اہم رہنماؤں سے رابطوں کا سلسلہ اب باضابطہ طور پر شروع ہوا ہے۔

اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات

ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کی کال سے قبل پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اعتماد میں نہ لینے پر تحفظات پیدا ہوئے۔

اپوزیشن اتحاد کے دونوں اہم رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر احتجاج مشترکہ اپوزیشن سرگرمی کے طور پر کیا جانا ہے تو اس کی حکمت عملی، تاریخ، پروگرام اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے سے پہلے اتحادی جماعتوں سے باضابطہ مشاورت ضروری تھی۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ اور سہیل آفریدی کی جانب سے احتجاجی کال کے معاملے پر دونوں اپوزیشن رہنماؤں سے بروقت مشاورت نہیں کی گئی، جس کے باعث اتحاد کے اندر فاصلے محسوس کیے گئے۔

مرکزی قیادت کی ملاقاتیں شروع، اختلافات ختم کرنے کی کوشش

27 ستمبر کے احتجاج کو مؤثر بنانے کیلئے اب پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اپوزیشن اتحاد کے ناراض رہنماؤں سے رابطے شروع کردیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مرکزی قیادت کی کوشش ہے کہ احتجاج سے قبل تمام اتحادی جماعتوں کو ایک صفحے پر لایا جائے اور احتجاج کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے۔

اسد قیصر کی علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کو اسی سلسلے کی پہلی اہم کڑی قرار دیا جارہا ہے، جبکہ محمود خان اچکزئی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطوں اور ملاقاتوں کا امکان ہے۔

10 ستمبر گزر گیا ابھی تک مرکزی اجلاس نہ ہوسکا

دوسری جانب ذرائع کے مطابق ستمبر کے 10 دن گزرنے کے باوجود پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کا احتجاج کے حوالے سے کوئی باقاعدہ اجلاس یا مرکزی سطح کی باضابطہ میٹنگ نہیں ہوسکی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج میں اب صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں، لیکن تاحال احتجاج کی مکمل حکمت عملی، جلسوں یا احتجاجی سرگرمیوں کے مقامات، قیادت کی ذمہ داریوں، مرحلہ وار پروگرام اور اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ شرکت کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آسکی۔

اسی وجہ سے پارٹی کے اندر اور اپوزیشن اتحاد میں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ اگر 27 ستمبر کا احتجاج مشترکہ اپوزیشن سرگرمی کے طور پر آگے بڑھانا ہے تو اس کی تیاری اور مشاورت میں تاخیر کیوں ہورہی ہے۔

احتجاج کی کال مگر مشترکہ حکمت عملی تاحال واضح نہیں

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان تو کردیا ہے، تاہم اس احتجاج کو کس شکل میں ملک گیر بنایا جائے گا اور اپوزیشن جماعتوں کو کس سطح پر ساتھ ملایا جائے گا، اس حوالے سے ابھی تک تفصیلی اور مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان میں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس جیسے اہم رہنما شامل ہیں، اس لیے ان کی شمولیت اور سیاسی حمایت احتجاج کی مجموعی حیثیت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان بنیادی طور پر پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اشتراک سے قائم سیاسی پلیٹ فارم ہے، جس میں اسد قیصر سمیت پی ٹی آئی قیادت نے ابتدا ہی سے رابطہ کاری میں کردار ادا کیا ہے۔

اب اصل امتحان مشاورت کا

سیاسی طور پر اب پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کیلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل نہ صرف اپنے اندرونی اختلافات ختم کرے بلکہ اپوزیشن اتحاد کی تمام اہم جماعتوں کو بھی مشترکہ حکمت عملی پر متفق کرے۔

اسد قیصر کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کو اسی کوشش کا آغاز قرار دیا جارہا ہے تاہم محمود خان اچکزئی اور دیگر اتحادی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت، احتجاج کے حتمی پروگرام اور مرکزی سطح پر باقاعدہ اجلاس کا انعقاد ابھی باقی ہے۔

یوں 27 ستمبر کے احتجاج کی کال کے باوجود فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی مرکزی قیادت اور اپوزیشن اتحادیوں کو بروقت ایک صفحے پر لا سکے گی یا اختلافات احتجاجی پلان پر بھی اثر انداز ہوں گے؟

Qaisar Mirza
editor

Related Articles