پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لیے بڑی خوشخبری ہے کہ حکومت کی جانب سے رواں ماہ سے پتنگیں اور ڈور بنانے، خرید و فروخت کے لیے اجازت نامے جاری ہونا شروع ہوجائیں گے۔
ذرائع کے مطابق جو افراد پتنگیں یا ڈور بنانے کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنا چاہیں گے، انہیں تمام مطلوبہ تقاضے پورے کرنے کے بعد پتنگ بنانے، ڈور تیار کرنے، خرید و فروخت اور اس حوالے سے دیگر سرگرمیوں کی اجازت ملنا شروع ہوجائے گی۔
رواں ماہ سے ہی پتنگ بازی کے حوالے سے تمام تر انتظامات بھی مکمل کیے جائیں گے۔ اس حوالے سے سیکریٹری داخلہ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں پتنگ بازی اور بسنت کے انعقاد سے متعلق تمام ایس او پیز طے کیے گئے۔
طے شدہ ایس او پیز کے مطابق جہاں بھی پتنگ بازی کی جائے گی، وہاں چھتوں کو مکمل طور پر رینوویٹ کیا جائے گا۔ پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی چھتوں کی دیواریں ساڑھے تین فٹ اونچی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ دیواریں نہ ہونے کی صورت میں ساڑھے تین فٹ اونچی گرل لگائی جائے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 12، 13 اور 14 مارچ کو پتنگ بازی کی اجازت ہوگی اور بسنت باقاعدہ طور پر منائی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مقررہ تاریخوں سے پہلے پتنگ یا ڈور کی خرید و فروخت یا پتنگ بازی کرنے والے شخص کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
اسی طرح مقررہ تاریخوں کے بعد پتنگ بازی یا خرید و فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اجلاس میں لاہور کے 20 لاکھ سے زائد موٹرسائیکل سواروں کے لیے بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔ حکومت تمام موٹرسائیکل سواروں کو مفت سیفٹی راڈز فراہم کرے گی اور ان کی موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈ کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی، تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے یا ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔