چین نے انسان نما روبوٹس کے ممکنہ عسکری استعمال کے لیے تحقیق اور تجربات تیز کر دیے ہیں، جہاں ان مشینی نظاموں کو مستقبل میں جنگی اور خطرناک مشنز میں استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
چینی فوجی ادارے انسان نما روبوٹس کو شہری جنگ، نگرانی، جاسوسی، رسد اور ایسے خطرناک علاقوں میں استعمال کرنے پر تحقیق کر رہے ہیں جہاں انسانی اہلکاروں کی موجودگی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
چین کی نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی میں کیے گئے تجربات کے دوران روبوٹس کو دشمن کی صفوں کے پیچھے جانے، علاقے کا نقشہ تیار کرنے اور ممکنہ اہداف تلاش کرنے جیسے کاموں کے لیے آزمایا گیا ہے۔
تحقیق میں روبوٹس کی اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے، مختلف اشیا کو پکڑنے اور سنبھالنے کے ساتھ ساتھ خودکار فیصلے کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 2026 میں چینی فوج نے روبوٹس کے لیے کیمروں، ریڈار اور نقل و حرکت سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے اور تربیتی نظام تیار کرنے کے لیے بھی بجٹ مختص کیا ہے۔
تاہم ابھی تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ مسلح انسان نما روبوٹس کو چینی فوج کی کسی فعال یونٹ میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جا چکا ہے۔ موجودہ روبوٹس کو توانائی کی زیادہ کھپت اور غیر یقینی جنگی ماحول میں قابل اعتماد کارکردگی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
چین مستقبل میں ایسے روبوٹس کو فوجیوں کے ساتھ معاون مشینوں کے طور پر یا انتہائی خطرناک علاقوں میں بھیجے جانے والے مشینی اہلکاروں کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر کام کر رہا ہے، تاہم یہ ٹیکنالوجی فی الحال تحقیق اور تجربات کے مرحلے میں ہے۔