چین کی 24 سالہ مک بانگ انفلوئنسر چن زیئی، جو سوشل میڈیا پر ینگ ینگ کے نام سے مشہور تھیں، اچانک انتقال کرگئیں۔ ان کے سوشل میڈیا پر 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے اور وہ اپنی غیر معمولی کھانے کی ویڈیوز کے باعث شہرت رکھتی تھیں۔
ینگ ینگ کی ویڈیوز میں انہیں بڑی مقدار میں کھانا کھاتے اور لائیو اسٹریمز کے دوران مختلف فوڈ چیلنجز کرتے دیکھا جاتا تھا۔ ان کا یہی انداز انہیں لاکھوں لوگوں تک لے گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوشل میڈیا کی معروف مک بانگ شخصیات میں شامل ہوگئیں۔ ان کے بارے میں سب سے حیران کن دعووں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے ایک لائیو اسٹریم کے دوران 60 سے 70 انڈے کھانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ینگ ینگ نے اپنی آخری ویڈیو میں خود اپنے صحت کے مسائل کا ذکر کیا تھا۔ 14 اگست کو شیئر کی گئی اس ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں خون میں پوٹاشیم کی شدید کمی کے باعث اسپتال داخل ہونا پڑا تھا اور ان کا پوٹاشیم لیول 2.3 mmol/L تک گر گیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں پہلے بھی کئی مرتبہ پوٹاشیم کی شدید کمی کا سامنا ہوچکا ہے۔ اپنی ویڈیو میں ینگ ینگ نے واضح کیا تھا کہ پیسہ کمانا اہم ہے، لیکن صحت کو ہمیشہ ترجیح دینی چاہیے۔ صرف 3روز بعد، 17 اگست کو ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے والدین نے 4 ستمبر کو موت کی تصدیق کی، تاہم خاندان نے انتقال کی باضابطہ وجہ ظاہر نہیں کی۔
بعد میں بعض میڈیا رپورٹس میں ان کی موت کو پوٹاشیم کی شدید کمی اور دل کے مسائل سے جوڑا گیا، لیکن اس حوالے سے اہل خانہ یا کسی سرکاری طبی ذریعے کی جانب سے حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ینگ ینگ کی موت نے مک بانگ ویڈیوز کے ایک عجیب پہلو کو دوبارہ بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر زیادہ ویوز اور مقبولیت حاصل کرنے کے لیے بعض انفلوئنسرز غیر معمولی مقدار میں کھانا کھاتے ہیں، لیکن اس کے ممکنہ صحت کے اثرات بھی سنگین ہوسکتے ہیں۔
ایک ایسی انفلوئنسر جس کی شناخت ہی بڑی مقدار میں کھانا کھانے والی ویڈیوز سے بنی، اس کا صرف 24 سال کی عمر میں اچانک دنیا سے چلے جانا سوشل میڈیا صارفین کے لیے حیران کن واقعہ بن گیا ہے۔