انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن فٹ بال (فیفا) نے تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے 24 ستمبر سے 5 اکتوبر تک منعقد ہونے والے پہلے ’فیفا آسیاین کپ‘ کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس میں آسیان کے 11 رکن ممالک اور 3 مہمان ٹیموں سمیت کل 14 قومیں مدمقابل ہوں گی۔
عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی ’فیفا‘ نے جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں کھیل کی فروغ اور علاقائی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے نوعیت کے پہلے ’فیفا آسیان کپ‘ کے باضابطہ انعقاد کا اعلان کر دیا ہے۔
فیفا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ تاریخی ایونٹ رواں سال 24 ستمبر سے شروع ہو کر 5 اکتوبر تک جاری رہے گا، جس میں خطے کی بہترین ٹیمیں ایک منظم مقابلے کے تحت ایک دوسرے کے سامنے آئیں گی۔
اس افتتاحی ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی انڈونیشیا اور ہانگ کانگ چین کے سپرد کی گئی ہے۔ مقابلے انڈونیشیا کے 2 معروف شہروں بانڈونگ اور جکارتہ کے علاوہ ہانگ کانگ کے عالمی معیار کے اسٹیڈیمز میں کھیلے جائیں گے۔
ان مقامات کا انتخاب شائقینِ فٹ بال کو بہترین ماحول اور اعلیٰ سطح کے انتظامات فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ کا فارمیٹ اور شریک ٹیمیں
ٹورنامنٹ کے ساخت کی بات کی جائے تو اس میں کل 14 قومی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز (آسیان ) سے تعلق رکھنے والے تمام 11 رکن ممالک شامل ہیں، جبکہ مقابلے کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے وسیع تر خطے سے 3 مہمان ٹیموں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
فیفا کا کہنا ہے کہ اس ساخت کا بنیادی مقصد نہ صرف بین الاقوامی سطح کے اعلیٰ مقابلوں کو یقینی بنانا ہے، بلکہ شائقین کو کھیل کے ساتھ جوڑنے کے نئے اور منفرد مواقع بھی فراہم کرنا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں فٹ بال کو دیوانہ وار پسند کیا جاتا ہے، تاہم اس خطے کی قومی ٹیموں کو عالمی سطح پر باقاعدہ اور بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کا حصہ بننے کے محدود مواقع میسر آتے رہے ہیں۔
فیفا کی جانب سے اس نئے کپ کا قیام طویل عرصے کی اس ضرورت کو پورا کرنے کا ایک حصہ ہے، جس کے ذریعے خطے کے ممالک کے درمیان کھیل کے رشتے کو مضبوط کرنا اور ایشیائی فٹ بال کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانا مقصود ہے۔
فیفا کا یہ اقدام جنوب مشرقی ایشیا میں کھیل کے منظر نامے کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
11 آسیان ممالک کے ساتھ 3 مختلف مہمان ٹیموں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے سے نہ صرف مقابلے کی تندی میں اضافہ ہوگا، بلکہ ان ٹیموں کو عالمی سطح کی تکنیکی مہارتیں سیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔
جکارتہ، بانڈونگ اور ہانگ کانگ جیسے زبردست سپورٹس کلچر والے شہروں کی میزبانی سے شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہوگا اور یہ اقدام مستقبل میں خطے سے نئی صلاحیتوں کو عالمی افق پر لانے کا باعث بنے گا۔