امریکا میں مقیم H-1B ویزا ہولڈرز اور دیگر عارضی ورک ویزا رکھنے والے تارکین وطن کے لیے نئی مشکل سامنے آگئی، ٹرمپ انتظامیہ نے ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی 60 روزہ گریس پیریڈ ختم کرنے کی تجویز پیش کردی۔
60 روزہ مہلت ختم کرنے کی تجویز
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے فیڈرل رجسٹر میں جاری مجوزہ ضابطے کے مطابق H-1B سمیت بعض عارضی ورک ویزا رکھنے والوں کو ملازمت ختم ہونے کے بعد امریکا میں قیام اور نیا اسپانسر تلاش کرنے کے لیے دستیاب 60 روزہ مہلت ختم کی جاسکتی ہے۔
مجوزہ تبدیلی نافذ ہونے کی صورت میں ملازمت ختم ہونے کے بعد متاثرہ غیر ملکی کارکنوں کو فوری طور پر امریکا چھوڑنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
ٹیک کمپنیوں کیلئے بھی بڑا چیلنج
ممکنہ نئی پالیسی ان امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی مشکل پیدا کرسکتی ہے جو غیر ملکی ہنرمند کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔ H-1B پروگرام کے ذریعے بڑی تعداد میں غیر ملکی ماہرین امریکی کمپنیوں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔
سالانہ 85 ہزار H-1B ویزے
H-1B پروگرام کے تحت سالانہ 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے کارکنوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ یہ ویزے عموماً تین سے چھ سال کی مدت کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
ایک لاکھ ڈالر فیس کا معاملہ
ٹرمپ انتظامیہ نے اس سے قبل H-1B ویزا پروگرام کے حوالے سے ایک لاکھ ڈالر کی نئی فیس بھی متعارف کرائی تھی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ H-1B پروگرام کا استعمال امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت والے غیر ملکی کارکن لانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم یہ فیس ان غیر ملکی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتی جو پہلے ہی امریکا میں طالب علم ویزے پر موجود ہوں اور بعد میں H-1B ویزا حاصل کریں۔
درخواستوں کی جانچ سخت
ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نئے ویزا انتخابی نظام کی تجویز دی گئی ہے، جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے کارکنوں کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔
نئی فیس کے خلاف مقدمات
ایک لاکھ ڈالر کی فیس کے خلاف کم از کم تین مختلف مقدمات بھی دائر کیے جاچکے ہیں، جن میں امریکی چیمبر آف کامرس کی جانب سے دائر کیا گیا مقدمہ بھی شامل ہے۔
مجوزہ 60 روزہ گریس پیریڈ کے خاتمے پر حتمی فیصلہ ضابطہ سازی کے عمل کی تکمیل کے بعد ہوگا، تاہم اس تبدیلی سے امریکا میں موجود H-1B کارکنوں کے ملازمت تبدیل کرنے اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے طریقہ کار پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔