سمندر کی بے رحم موجوں میں اگر کوئی انسان ایک دن نہیں بلکہ پورے 438 دن تک زندہ رہ جائے تو اسے کسی معجزے سے کم نہیں کہا جاسکتا۔ میکسیکو سے مچھلی کے شکار کیلئے نکلنے والے ایل سلواڈور کے ماہی گیر ہوزے سلواڈور الوارینگا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
17 نومبر 2012 کو الوارینگا اپنے 22 سالہ ساتھی ایزیکوئیل کورڈوبا کے ساتھ ایک چھوٹی کشتی میں سمندر میں گئے۔ دونوں کا مقصد مچھلیاں پکڑنا تھا، لیکن سفر کے دوران آنے والے شدید طوفان نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
طوفان کے دوران کشتی کا انجن، جی پی ایس اور ریڈیو خراب ہوگئے۔ کشتی کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے انہیں بڑی مقدار میں پکڑی گئی مچھلیاں اور ایندھن بھی سمندر میں پھینکنا پڑا۔ یوں دونوں کا خشکی سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
کھانے پینے کا سامان ختم ہونے کے بعد دونوں نے سمندر ہی سے خوراک حاصل کرنا شروع کردی۔ الوارینگا مچھلیاں اور سمندری پرندے پکڑ کر کھاتے جبکہ بارش کا پانی جمع کرکے پیتے تھے۔
طویل عرصے تک سمندر میں پھنسے رہنے، شدید بھوک، پیاس اور مسلسل ذہنی دباؤ نے دونوں کی حالت انتہائی خراب کردی۔ کچھ عرصے بعد ایزیکوئیل کورڈوبا کی حالت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہوسکے۔ کورڈوبا کی موت کے بعد الوارینگا بالکل تنہا رہ گئے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
438 دن بعد خشکی نظر آئی
دنیا سے کٹے ہوئے الوارینگا نے کھلے سمندر میں کئی ماہ گزارے۔ اس دوران ان کی کشتی تقریباً 10 ہزار 800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی رہی۔ آخرکار 30 جنوری 2014 کو ان کی کشتی مارشل جزائر کے ایک دور افتادہ مقام ایبون اٹول کے قریب جا پہنچی۔ ایک سال سے زیادہ عرصے تک سمندر میں بھٹکنے کے بعد الوارینگا کو آخرکار خشکی نصیب ہوگئی۔
ہوزے سلواڈور الوارینگا کی یہ غیر معمولی داستان بعد میں صحافی جوناتھن فرینکلن نے اپنی کتاب ڈیز 438 میں بیان کی۔ یہ واقعہ انسانی برداشت، امید اور مشکل ترین حالات میں زندہ رہنے کی خواہش کی ایک حیران کن مثال بن گیا۔