نئے صوبوں کےلیےعوام سے پوچھا جائے،طارق فضل چوہدری

نئے صوبوں کےلیےعوام سے پوچھا جائے،طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر چاروں صوبوں کے عوام سے رائے لی جانی چاہیے، اگر عوام نئے صوبے بنانا چاہیں تو اس حوالے سے پیش رفت ہونی چاہیے۔

اسلام آباد کا نیا ماڈل

اسلام آباد کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تجویز پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دیگر صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس کب قائم ہوں گے، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں، تاہم اسلام آباد میں یونٹ سب سے پہلے قائم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کرکے اسلام آباد یونٹ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور حکومت اس ماڈل کو بنانے میں کامیاب ہوگی۔ ان کے مطابق بہت سے مسائل کا حل اسی نئے ماڈل میں موجود ہے۔

پانچواں صوبہ نہیں ہوگا

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو صوبے کا درجہ نہیں دیا جائے گا بلکہ اسے صوبے سے بڑا انتظامی یونٹ بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوسرے صوبے بھی نئے انتظامی یونٹس بنانا چاہیں تو وہ اسلام آباد کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔

موجودہ نظام پر تحفظات

طارق فضل چوہدری کے مطابق اسلام آباد کے لیے بہتر گورننس ماڈل لانا سب کی خواہش ہے۔ اسلام آباد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے وجود میں آیا تھا اور یہاں شروع سے جو نظام نافذ کیا گیا وہ عارضی بنیادوں پر تھا، لیکن بدقسمتی سے اب تک وہی نظام چل رہا ہے۔

دیہی علاقوں کے مسائل

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ترقیاتی معاملات کی نگرانی سی ڈی اے کرتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے معاملات آئی ٹی سی دیکھتی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے دیہی علاقوں میں محرومیوں کی صورتحال جنوبی پنجاب سے بھی زیادہ ہے۔

بااختیار بلدیاتی نظام کی ضرورت

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی بااختیار بلدیاتی نظام نظر نہیں آتا۔ اسلام آباد کا موجودہ بلدیاتی نظام کسی مکمل آزاد اور بااختیار ماڈل کا متبادل نہیں بن سکتا۔

ان کے مطابق اسلام آباد میں قانون ساز اسمبلی ہونی چاہیے جو مقامی معاملات دیکھ سکے، کیونکہ اس وقت چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے بھی قومی اسمبلی سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

27 ارکان کی اسمبلی کی تجویز

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد سے متعلق بل پارلیمان سے منظور کرانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر اسلام آباد کی اپنی اسمبلی قائم ہوجائے تو 27 ارکان مقامی نوعیت کے بل منظور کرسکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں آزاد جموں و کشمیر سے بھی زیادہ ریونیو جمع ہوتا ہے اور حکومت کو معلوم ہے کہ موجودہ نظام کے مسائل کی بنیادی وجہ کہاں موجود ہے۔

editor

Related Articles