سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا،سعودی عرب

سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا،سعودی عرب

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا ہے کہ مملکت کی سلامتی اور تحفظ پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین کے خلاف ہونے والی کسی بھی کارروائی کو برداشت نہیں کریں گے، چاہے اس کے لیے کوئی بھی جواز پیش کیا جائے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

  سعودی وزیر خارجہ نے خلیج کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا،انہوں نے کہا کہ خطے میں مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں مختلف فریقوں کے درمیان محاذ آرائی پھیل رہی ہے، جس سے تنازع کے مزید علاقوں تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

امن کا راستہ کیا ہے؟

شہزادہ فیصل بن فرحان کے مطابق خلیجی خطے میں دیرپا امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب تمام ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی حدود کا احترام کریں، ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز خطے میں مستقل استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

خلیج صرف خطے کا مسئلہ نہیں

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ خلیج میں امن و استحکام کو صرف مشرق وسطیٰ کا علاقائی معاملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ خلیجی خطہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات دنیا کے دیگر حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

تنازع پھیلنے کا خدشہ

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو محاذ آرائی کا دائرہ وسیع ہونے کا خطرہ موجود ہے، خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی کم کرنا اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام یقینی بنانا ضروری ہے۔

علاقائی استحکام کی اہمیت

شہزادہ فیصل بن فرحان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو سنجیدہ خطرہ سمجھتا ہے اور اپنی سلامتی کے معاملے پر واضح پالیسی رکھتا ہے سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خلیج کا امن صرف متعلقہ ممالک ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

editor

Related Articles