پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کی زیرِ صدارت لاہور میں ہونے والے اہم اجلاس میں نئے صوبوں کی تشکیل، ملکی سیاسی و انتظامی امور اور عوامی ریلیف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ کمی نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی ایک اہم بیٹھک ہوئی جس کی صدارت پارٹی کے صدر نواز شریف نے کی۔
اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیر اعظم سمیت دیگر سینیئر لیگی رہنماؤں نے شرکت کی اور ملکی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نئے صوبوں کے قیام پر مشاورت
اجلاس کے دوران 2 سب سے اہم اور نمایاں موضوعات زیرِ بحث آئے۔ ان میں سے پہلا موضوع نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق شرکا نے انتظامی بہتری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی سہولت کے لیے نئے صوبوں کے قیام سے جڑے مختلف پہلوؤں اور ان کے ممکنہ سیاسی اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
عوامی ریلیف اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی
عوام کو درپیش موجودہ معاشی مشکلات کے پیشِ نظر اجلاس میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کا اعلان براہِ راست نواز شریف کی ہدایات ملنے کے بعد کیا ہے، تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔
ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل بالخصوص ’جنوبی پنجاب‘ صوبے کا قیام، ایک طویل عرصے سے قومی سیاست کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) ماضی میں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کی اصولی حامی رہی ہے۔ دوسری جانب ہوشربا مہنگائی کے باعث حکومت پر شدید دباؤ ہے، جس کے پیشِ نظر پارٹی قیادت اب عوام کو ریلیف فراہم کر کے اپنا کھویا ہوا سیاسی اعتماد اور مقبولیت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) اب ایک بار پھر اپنی روایتی سیاسی حکمتِ عملی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ نئے صوبوں کے قیام پر بحث کا آغاز اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی آنے والے بلدیاتی یا مستقبل کے عام انتخابات کے لیے ایک نیا بیانیہ تشکیل دے رہی ہے۔
مزید برآں پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا کریڈٹ نواز شریف کو دینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں اہم پالیسی سازی کا اصل محور بدستور نواز شریف ہی ہیں اور وہ حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف کے فیصلوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں تاکہ سیاسی سرمائے کو محفوظ رکھا جا سکے۔