دفاعی تعاون سے متعلق اہم معلومات خفیہ ، منظر عام پر نہیں لائی جائیں گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

دفاعی تعاون سے متعلق اہم معلومات خفیہ ،  منظر عام پر نہیں لائی جائیں گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہم امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کررہے ہیں کیونکہ ہم امن پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان خطے میں امن کا بڑا حامی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی ایک منفرد پوزیشن بھی ہےکیونکہ ہماری پالیسی مختلف ممالک کے ساتھ کثیر جہتی تعلقات اور روابط رکھنے پر مبنی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان ایک غیر جانب دار ثالث اور امن کے لیے ایک مخلص ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے تنازع میں ثالثی کرنا، جہاں فریقین کے درمیان کشیدگی، عدم اعتماد اور بہت سی پیچیدگیاں موجود ہوں، آسان نہیں ہوتا۔ اچھی ثالثی کی بنیادی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ ثالث غیر جانب دار اور غیر متعصب رہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس لیے ثالث کی حیثیت سے ہمارا کام ان واقعات پر تبصرہ کرنا نہیں جو ہو رہے ہیں یا مستقبل میں ہونے والے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ یہی موقف برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت تمام فریقوں سے رابطے کر رہی ہے تاکہ بہتر سوچ غالب آئے اور فوجی حل کے بجائے اس پیچیدہ صورتحال کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے میں جو کردار ادا کر سکتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط مضبوط اور مستحکم تعلقات ہیں۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ، ہمسایہ اور اسٹریٹجک تعلقات بھی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان بہت سے مشترکہ مفادات اور باہمی روابط موجود ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کی سیاسی قیادت کی خواہش، صلاحیت اور حساسیت بھی اہم ہے، کیونکہ اس تنازع میں پاکستان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں۔پاکستان کا واحد مقصد یہ ہے کہ یہ تنازع مزید نہ پھیلے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے حل کے علاوہ کیا کوئی اور قابلِ قبول راستہ ہے؟ اگر پاکستان یا خطے کے دیگر ممالک کی امن کی خواہش کہیں ختم ہو جائے تو پھر بات الگ ہے۔

میرا خیال ہے کہ جواب بہت واضح ہے۔ اس تنازع میں شامل تمام فریق، چاہے براہِ راست شامل ہوں یا باہر سے اس صورتحال کو دیکھ رہے ہوں، انہیں ہمیشہ پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔اسی لیے جو لوگ غیر جانب داری اور خلوص کے ساتھ ثالثی کرنا چاہتے ہیں، انہیں اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سب سے پہلے تو پاکستان اپنی سرحدوں، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے حوالے سے اپنی سکیورٹی کے بارے میں پُراعتماد اور خود انحصار ہے۔

یقیناً کسی بھی تنازع کے پھیلنے کے خدشات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ یہ صرف پاکستان کی تشویش نہیں بلکہ پورا خطہ اور دنیا اس جاری تنازع کے اثرات محسوس کر رہی ہے۔

لوگوں کے حوالے سے خدشات بہرحال موجود رہیں گے، لیکن پاکستان جیسے خود انحصار ملک کو یقین ہے کہ پاکستان کے خلاف پیدا ہونے والے کسی بھی نقصان دہ منصوبے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر ملک کے ساتھ تعلقات آزاد اور الگ نوعیت کے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ایران کی قیمت پر نہیں ہیں اور نہ ہی چین کی قیمت پر یا کسی اور ملک کی قیمت پر ہیں۔اسی طرح کسی دوسرے ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی کسی تیسرے ملک کی قیمت پر نہیں ہیں۔

دنیا میں ہماری متعدد ممالک، مختلف طاقتوں اور مختلف گروپس کے ساتھ آزادانہ تعلقات ہیں، اور یہ تمام تعلقات باہمی مفاد اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہیں۔

ہر ملک کی اپنی قومی ترجیحات اور مقاصد ہوتے ہیں۔ پاکستان کی بھی اپنی قومی ترجیحات اور قومی مقاصد ہیں، جن کا مقصد پاکستانی عوام کی خوشحالی اور استحکام ہے۔

ہم ان معاملات میں مشترکہ مفادات اور مشترکہ پہلو تلاش کرتے ہیں، انہیں مزید مضبوط کرتے ہیں، جبکہ اختلافات کو انتظام اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تعلقات اچانک وجود میں نہیں آئے۔ یہ پاکستان اور سعودی عرب، اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک تعلقات پر مبنی ہیں۔

دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خصوصی نوعیت کے ہیں۔ ان میں عوامی سطح کے روابط، جذباتی اور ثقافتی تعلقات کے ساتھ ساتھ حکومتی اور عسکری روابط بھی شامل ہیں، جو کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

یہ اتحاد ایک ایسے حساس ماحول میں ان دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کا عمل ہے۔

تینوں ممالک کی جانب سے جاری معاہدے کے سادہ الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ اس کی بنیاد اجتماعی دفاع پر ہے۔ اس میں کوئی جارحانہ، مداخلت پسند یا جارحیت پر مبنی عنصر نہیں، بلکہ یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو کس چیز کا پابند بناتا ہے؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ کئی دہائیوں پرانے تعلقات کو اجتماعی دفاع اور تینوں ممالک کے دفاع کے شعبے میں باضابطہ شکل دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ دفاعی ہے، مکمل طور پر دفاعی۔ اس میں کوئی جارحانہ عنصر یا علاقائی توسیع کے عزائم نہیں ہیں۔

یہ اجتماعی دفاع کے لیے ہے اور اس کی نوعیت تکمیلی ہے، کیونکہ ان تمام ممالک کے دوسرے ممالک، اتحادوں اور گروپس کے ساتھ اپنے آزاد تعلقات موجود ہیں۔یہ باہمی دفاعی معاہدہ ان تعلقات کا متبادل یا ان سے مقابلہ نہیں کرتا۔

اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہو جائے تو پاکستان کیا کرے گا؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہا کہ دفاعی وعدوں کو عملی شکل دینے کا طریقۂ کار عام طور پر عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔ دنیا میں کئی ایسے دفاعی نوعیت کے معاہدے موجود ہیں، لیکن کوئی ملک اپنی فوجی کارروائیوں کی عملی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھتا۔

آپ دراصل یہ پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان کسی جارحیت کے خلاف دفاع کیسے کرے گا؟ یہ وہ حصہ ہے جو فوجی اور عملی نوعیت کا ہوتا ہے اور سکیورٹی کے تحت آتا ہے۔اس لیے یہ تینوں ممالک کے درمیان طے ہونا ہے کہ اسے کس طرح عملی شکل دی جائے گی اور اسے کیسے نافذ کیا جائے گا۔

چین کے ساتھ تعلقات

احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات اچانک وجود میں نہیں آئے۔ چین اس بات کو سمجھتا ہے اور دنیا بھی سمجھتی ہے کہ یہ تعلقات کتنے گہرے ہیں۔

ہم نے ان تعلقات کو باضابطہ اور مزید مضبوط کیا ہے۔ سب سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے ہے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ بھی بہت اسٹریٹجک تعلقات ہیں، اس لیے ان تعلقات کے درمیان مقابلے کا کوئی سوال نہیں۔

پاکستان اپنے شراکت داروں اور دوست ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے اور انہیں مضبوط بنانے پر یقین رکھتا ہے۔

کیا یہ مسلم دنیا کے لیے مشترکہ سکیورٹی نظام بن سکتا ہے؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بدقسمتی سے، اسے مسلم امن کے نظام کے طور پر بیان کرنا درست نہیں، کیونکہ اس معاہدے میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ کوئی مسلم اتحاد ہے۔

یہ ایک علاقائی اتحاد ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک کے لیے نہیں بنایا گیا۔اسے کب اور کس طرح وسعت دینی ہے، یہ تینوں ممالک کی قیادت کو طے کرنا ہے۔

البتہ یہ معاہدہ اور یہ اتحاد مستقبل میں ایسے نئے شراکت داروں کو شامل کر سکتا ہے جو علاقائی امن، استحکام اور سکیورٹی پر یقین رکھتے ہوں اور عدم جارحیت، عدم مداخلت اور اجتماعی دفاع کے مشترکہ وژن کے حامل ہوں

editor

Related Articles