سیاسی جماعتوں کو پہلے اپنی پارٹیوں میں جمہوریت لے کر آنی چاہیے، اقرار الحسن

سیاسی جماعتوں کو پہلے اپنی پارٹیوں میں جمہوریت لے کر آنی چاہیے، اقرار الحسن

سینئر صحافی اور عوام راج پارٹی کے بانی اقرار الحسن نے آزاد ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، عمران ریاض خان، شہباز گل، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

اقرار الحسن نے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت، میرٹ، نوجوانوں کے کردار، عمران خان کی رہائی کے لیے جاری سیاسی سرگرمیوں، خیبرپختونخوا کی صورتحال، سوشل میڈیا اور یوٹیوب صحافت سمیت مختلف معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 سیاسی جماعتوں میں جمہوریت

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ صحافی رہے ہیں، صحافی ہیں اور ہمیشہ صحافی ہی رہیں گے  ان سے مختلف رائے رکھنے والے لوگوں کے پلیٹ فارم پر جا کر اپنا مؤقف پیش کرنا ایک اچھی بات ہے، کیونکہ اس سے زیادہ لوگوں تک بات پہنچتی ہے،انہوں نے کہا کہ وہ متعدد مرتبہ صحافی صدیق جان اور دیگر افراد کو کیمرے کے سامنے ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دے چکے ہیں۔

اقرار الحسن نے سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بات تو کی جاتی ہے لیکن بہت سی سیاسی جماعتوں کے اندر خود جمہوری نظام موجود نہیں، ان کا کہنا تھا کہ جو جماعت ملک میں میرٹ لانے کی بات کرتی ہے، اسے پہلے اپنے اندر میرٹ قائم کرنا چاہیے،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں  شخصیات کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں جیسے آصف زرداری ، نواز شریف ، عمران خان یہ سب پارٹی ہیڈ ہیں عام آدمی کیلئے کیاہے ؟

  نوجوانوں کا کردار

اقرارالحسن نے کہا کہ اگر پاکستان کے نوجوانوں کو آگے لانے کی بات کی جا رہی ہے تو اس کے لیے باقاعدہ نظام تشکیل دینا ہوگاسیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات اور میرٹ کا نظام ہونا چاہیے تاکہ کارکن اپنی صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں،انہوں نے دنیا کی مختلف سیاسی جماعتوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک میں سیاسی جماعتوں کی قیادت کارکنوں کے ذریعے سامنے آتی ہے، جبکہ پاکستان میں بھی ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

 تعاون پر مبنی نظام

انٹرویو کے دوران اقرار الحسن نے تعاون پر مبنی معاشی نظام کی حمایت بھی کی،انہوں نے بھارت کی امول ڈیری اور خواتین کی ملکیت میں چلنے والے کاروباری ماڈلز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے لوگوں کو صرف روزگار دینے کے بجائے انہیں معاشی طور پر بااختیار بھی بنا سکتے ہیں یہاں لوگوں کوسستی روٹی اور صحت کارڈ کے پیچھے لگا دیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ایسے نظام کی ضرورت ہے جس کے ذریعے کسان، مزدور، ریلوے ملازمین اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد معیشت اور سیاست دونوں میں آگے آ سکیں۔

 سہیل آفریدی پر تنقید

اقرار الحسن نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی سرگرمیوں پر بھی سخت تنقید کی،انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو آگے لانے کی مثال اگر ایسے نوجوان کو بنایا جائے جو کبھی ٹریفک وارڈن کے ساتھ نظر آتا ہے، کبھی پولیس کی گاڑی پر چڑھتا ہے اور کبھی سڑک کنارے بیٹھ کر مختلف دعوے کرتا ہے تو یہ نوجوان نسل کے لیے کس قسم کی مثال ہے۔

اقرار الحسن نے کہا کہ ان کے سیاسی اختلافات عمران خان سے اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم اگر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص سیاست میں آکر وزیر بنتا ہے تو اس کی کامیابی کو دیکھنا چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی ترقی، معیار زندگی بہتر بنانے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

 عمران خان کی رہائی

عمران خان کی رہائی کے معاملے پر اقرار الحسن نے کہا کہ وہ بھی اس بات کے خلاف ہیں کہ کسی منتخب وزیراعظم یا سابق وزیراعظم کے ساتھ ناانصافی ہو، تاہم سوال یہ ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے اختیار کیا جانے والا طریقہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس آج بنیادی طور پر عمران خان کی رہائی کا ایک ہی ایجنڈا نظر آتا ہے، جبکہ صوبے کے دیگر مسائل، مہنگائی، غربت، بے روزگاری، بلدیاتی نظام اور عوامی مشکلات پر توجہ بہت کم دکھائی دیتی ہے،اقرار الحسن نے کہا کہ اگر کوئی شخص اقتدار میں ہے تو اسے حکومت چلانے اور عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

ڈرامائی سیاست پر اعتراض

سینئر صحافی نے کہا کہ عمران خان کے نام اور ان کی رہائی کو بنیاد بنا کر سیاسی سرگرمیاں اور ڈرامائی انداز اپنانے سے عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا،انہوں نے کہا کہ  لوگ چند دن کی سیاسی سرگرمی دیکھ کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید انقلاب آنے والا ہے، پھر کچھ عرصے بعد وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہوجاتی ہے، یہ ہر چھ ماہ بعد ہورہا ہے ،انہوں نے کہا کہ معاشرے میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران شخصیت پرستی کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں اور چند ماہ میں اس ذہنیت کو تبدیل کرکے انقلاب نہیں لایا جا سکتا۔

 شخصیت پرستی ختم کرنے کی بات

اقرار الحسن نے کہا کہ وہ بتدریج لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے مسائل کا حل کسی ایک شخص کے پاس نہیں،انہوں نے کہا کہ جب تک لوگ یہ سوچتے رہیں گے کہ کوئی مسیحا آئے گا اور ان کے تمام مسائل حل کردے گا، اس وقت تک حقیقی سیاسی تبدیلی ممکن نہیں ،ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو شخصیت پرستی سے نکل کر ادارہ جاتی نظام کی طرف جانا ہوگا۔

  شہباز گل سے متعلق سوال

انٹرویو میں شہباز گل کے حوالے سے سوال پر اقرار الحسن نے کہا کہ شہباز گل کی اوقات چمٹہ لئے ہوئے بھانڈ سے زیادہ نہیں،ایسے مسخرے حکومت میں رہے ہیں ،لعنت ہے،وہ سارا دن ڈگڈگی بجاتا رہتا ہے،اقرار الحسن نے کہا کہ بدقسمتی سے پی ٹی آئی میں ایسا ماحول بن گیا ہے جہاں مختلف رہنماؤں کے حامی ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

 مراد سعید کا ذکر

گفتگو کے دوران مراد سعید کا بھی ذکر آیا، اقرار الحسن نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس قسم کی سیاسی ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں جو گروہ دوسروں کو غدار، ٹاؤٹ یا دیگر القابات دیتا تھا، وقت آنے پر اسی قسم کی زبان اسی گروہ کے خلاف بھی استعمال ہونے لگتی ہے۔

جماعت اسلامی کی مثال

اقرار الحسن نے جماعت اسلامی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری اداروں کے قیام کے لیے ایسی جماعتوں کے ماڈل کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو شخصیت یا کسی ایک بڑے سرمایہ دار پر انحصار کے بجائے تنظیمی نظام کے ذریعے چلتی ہیں،انہوں نے جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق اور موجودہ امیر حافظ نعیم الرحمن کا بھی ذکر کیا اور انہیں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت کے طور پر پیش کیا۔

جمائما گولڈ اسمتھ

انٹرویو میں عمران خان کی سابق اہلیہ جمیما گولڈ اسمتھ کا بھی ذکر ہوا،اقرار الحسن نے جمائما کے حوالے سے کہا کہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں اور عمران خان کے مشکل دور میں ان کی جانب سے بچوں کی پرورش کو قابل احترام سمجھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے بچے اپنے والد سے ملاقات کرنا چاہیں تو انہیں سہولت فراہم ہونی چاہیے،اقرار الحسن نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت کسی خاندان کے افراد کو ملاقات کے لیے سہولت فراہم کرسکتی ہے تو ایسا کیا جانا چاہیے۔

 ٹیریان کے حوالے سے گفتگو

گفتگو میں عمران خان سے منسوب ٹیریان کے معاملے پر بھی سوال کیا گیا،اقرار الحسن نے کہا کہ اگر عمران خان نے خود اس معاملے میں انکار نہیں کیا تو پھر دوسروں کو بھی کسی کو تسلیم یا رد کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

 یوٹیوب اور سوشل میڈیا

انٹرویو میں یوٹیوب سے ہونے والی آمدنی اور سوشل میڈیا پر مقبولیت کے معاملے پر بھی بات ہوئی،اقرار الحسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ یوٹیوب سے لازماً بہت زیادہ رقم حاصل ہوتی ہے،سوشل میڈیا پر بعض اوقات زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لیے مواد کا انداز تبدیل کیا جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کا مقصد صرف زیادہ ڈالر کمانا ہو تو وہ روز یہ سوچ سکتا ہے کہ ایسی کون سی بات کہی جائے جس سے زیادہ ویوز حاصل ہوں۔

  عمران ریاض خان پر سخت تنقید

گفتگو کے دوران عمران ریاض خان کا ذکر آنے پر اقرار الحسن نے انتہائی سخت الفاظ میں تنقید کی،انہوں نے کہا کہ وہ کسی کو غدار قرار دینے والے آخری شخص ہوں گے، تاہم ان کے خیال میں عمران ریاض خان اور ان کی ٹیم نے پاکستان، پاکستانی شناخت اور قومی جذبات کے حوالے سے جو نقصان پہنچایا، وہ انتہائی سنگین ہے۔

اقرار الحسن نے عمران ریاض کو صحافی ماننے سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ وہ ان کے صحافی ہونے کے دعوے سے متفق نہیں،انہوں نے کہا کہ وہ عمران ریاض خان سے بارہا مطالبہ کرچکے ہیں کہ وہ ان کے سامنے بیٹھ کر وضاحت کریں کہ وہ پاکستان سے کیسے باہر گئے۔

 بیرون ملک جانے پر سوالات

اقرار الحسن نے سوال اٹھایا کہ عمران ریاض خان نے پاکستان سے کس طریقے سے خروج کیا، کس ملک گئے، کس پرواز کے ذریعے گئے اور انہیں ویزا کہاں سے ملا،انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کی قانونی آمد و رفت کا ریکارڈ موجود ہے تو ان سوالات کا جواب سامنے آنا چاہیے،ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی نوجوان سوشل میڈیا پر بیٹھ کر بیرون ملک جانے اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے باتیں دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں بھی ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

 صحافت اور کردار

اقرار الحسن نے کہا کہ وہ ہمیشہ صحافی رہے ہیں اور صحافت کو اپنی بنیادی شناخت سمجھتے ہیں،انہوں نے سرسید احمد خان اور مولانا ظفر علی خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ معاشرے میں فکری اور شعوری تبدیلی پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے،ان کے مطابق صحافی کا بنیادی کردار لوگوں کو آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ سیاسی جماعتوں، نظام اور اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کرسکیں۔

 سیاسی تبدیلی کا راستہ

اقرار الحسن نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک شخصیت کو اقتدار میں لانے کے بجائے ایسا نظام قائم کرنے میں ہے جس میں میرٹ، جمہوریت اور ادارہ جاتی تسلسل موجود ہو،ان کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت ہوگی تو وہ ملک میں جمہوریت کو مضبوط کریں گی، اور اگر ان کے اندر میرٹ ہوگا تو وہ ملک میں میرٹ قائم کرنے کی صلاحیت رکھیں گی،انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو صرف سیاسی نعروں کے ذریعے متحرک کرنے کے بجائے انہیں سیاسی اور معاشی نظام کا حقیقی حصہ بنانا ہوگا۔

editor

Related Articles