گھر کی دیوار میں چھپا تھا ایک پورا جہان، 15 سال بعد راز کھل گیا

گھر کی دیوار میں چھپا تھا ایک پورا جہان، 15 سال بعد راز کھل گیا

شام کے دارالحکومت دمشق سے ایک ایسی کہانی سامنے آئی ہے جس نے ماضی کی یادوں اور کتابوں سے جڑی ایک جذباتی داستان تازہ کردی۔

ابو بلال نامی ایک شامی شخص 15 سال کویت میں رہنے کے بعد واپس دمشق پہنچا تو اسے اپنے گھر میں ایک ایسی چیز ملی جسے وہ برسوں سے بھول چکا تھا۔ یہ ایک نجی لائبریری تھی جسے اس نے 2011 میں ایک دیوار کے پیچھے چھپا کر بند کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ستمبر کا وہ دن جب دن اور رات کا دورانیہ تقریباً یکساں ہوجائے گا

گھر واپس آنے کے بعد ابو بلال نے ہتھوڑے کی مدد سے اس دیوار کو توڑا جس کے پیچھے اس نے برسوں پہلے اپنی کتابیں محفوظ کی تھیں۔ دیوار ٹوٹتے ہی اندر کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ اندر سینکڑوں کتابیں، رسائل، قرآنی اسناد اور ذاتی سامان بڑی حد تک محفوظ حالت میں موجود تھا۔ اتنے برس گزرنے کے باوجود کتابوں اور دیگر اشیا کا بڑی حد تک محفوظ رہنا ابو بلال کے لیے ایک جذباتی لمحہ بن گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ابو بلال نے یہ لائبریری اس وقت چھپائی تھی جب شام میں سابق بشار الاسد حکومت کا دور تھا۔ انہیں خدشہ تھا کہ لائبریری میں موجود بعض کتابیں اور مواد ان کے لیے مشکلات یا خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنی کتابوں کو دیوار کے پیچھے محفوظ کردیا۔ اس کے بعد وہ شام سے باہر چلے گئے اور تقریباً 15 برس بعد واپس دمشق پہنچے۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا میں ایک صدی بعد بلی کی نئی نسل دریافت

ابو بلال کی لائبریری کی دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کے ادبی اور ثقافتی منظرنامے میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ وہ کتابیں اور ادبی مواد جو ماضی میں محدود یا ممنوع سمجھے جاتے تھے، اب مختلف کتابوں کی دکانوں اور ثقافتی تقریبات میں زیادہ کھلے انداز میں نظر آنے لگے ہیں۔

دیوار کے پیچھے برسوں تک محفوظ رہنے والی ابو بلال کی لائبریری صرف کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی یاد بھی ہے جس میں بعض خیالات اور تحریروں کو محفوظ رکھنا بھی خطرہ بن سکتا تھا۔ اب برسوں بعد ان کتابوں کا دوبارہ سامنے آنا ماضی کی ایک خاموش داستان کے دوبارہ کھلنے کے مترادف ہے۔

editor

Related Articles