پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.4 ارب ڈالر کے قریب ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اہم معاشی پیش رفت پر اظہار تشکر کرتے ہوئے اسے معاشی استحکام کی جانب ایک اور اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق 11 ستمبر 2026 کو مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.389 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.402 ارب ڈالر رہے۔ یوں ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر 26.791 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ ذخائر کا 21.4 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچنا معاشی استحکام کی جانب ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی معاشی ٹیم کی مسلسل محنت اور درست سمت میں کیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ترسیلاتِ زر میں بہتری، خدمات کی برآمدات میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط نے زرمبادلہ ذخائر میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
حالیہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ، جولائی اور اگست، میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہوا، جس میں ترسیلاتِ زر کے مضبوط بہاؤ نے اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم کے مطابق عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک پاکستان کی دوبارہ رسائی بھی ملکی معیشت پر عالمی اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ سے فنڈز حاصل کیے، جس سے مرکزی بینک کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا اور عالمی معاشی مشکلات یا بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مستحکم زرمبادلہ پوزیشن سے بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری، سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافے اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، گورنر اسٹیٹ بینک، حکومت کی معاشی ٹیم اور بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اس پیش رفت پر خراج تحسین پیش کیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن کیلئے اہم پیش رفت ہے، تاہم ذخائر کی پائیداری کیلئے برآمدات میں مسلسل اضافہ، ترسیلاتِ زر کا مستحکم بہاؤ، بیرونی ادائیگیوں کا مؤثر انتظام اور کرنٹ اکاؤنٹ میں توازن برقرار رکھنا بھی اہم ہوگا۔
یوں اسٹیٹ بینک کے ذخائر کا تقریباً 21.4 ارب ڈالر تک پہنچنا پاکستان کی حالیہ بیرونی شعبے کی پیش رفت میں نمایاں اضافہ ہے، جبکہ بینکوں سمیت مجموعی زرمبادلہ ذخائر تقریباً 26.8 ارب ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔