دو بار موت کی سزا پر عملدرآمد کی کوشش، خاتون پھر بھی زندہ بچ گئی

دو بار موت کی سزا پر عملدرآمد کی کوشش، خاتون پھر بھی زندہ بچ گئی

امریکا میں سزائے موت پانے والی ایک خاتون کو زہریلا انجیکشن دے کر موت کی سزا دینے کی کوشش 2مرتبہ ناکام ہوگئی، جس کے بعد خاتون کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ریاست ٹینیسی میں پیش آیا، جہاں کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کے لیے زہریلے انجیکشن کی2 خوراکیں دی گئیں، تاہم دونوں کوششوں کے باوجود وہ زندہ رہی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انجیکشن دیے جانے کے بعد بھی کرسٹا پائیک ہوش میں تھی اور اس کی سانسوں کی آواز سنائی دیتی رہی۔ ناکام کارروائی کے بعد اسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی ہم جماعت طالبہ کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 18 سال تھی، جبکہ اب وہ 50 سال کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، وہ گاؤں جہاں ہر گھر محل ہے

واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر نے ریاست میں رواں سال ہونے والی تمام سزائے موت کی کارروائیوں کو روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ گورنر نے اس ناکام کارروائی کی مکمل تحقیقات کی ہدایت بھی کی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے ٹینیسی میں تقریباً 200 سال بعد پہلی مرتبہ کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی اجازت دی تھی۔ کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کی ناکام کوشش نے امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار اور اس کے انتظام سے متعلق ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

editor

Related Articles