ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر تہران پر مزید کوئی حملہ ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا دائرہ وسیع ہو کر ’بحرِ ہند‘ اور اس سے آگے تک پھیل سکتا ہے۔
ایرانی عسکری قیادت نے اعلان کیا ہے کہ ملکی دفاعی نظریے میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا چکی ہیں اور اب دباؤ کا دور ختم ہو چکا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر یحییٰ رحیم صفوی نے جمعرات کو ایک اہم بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
’فارس نیوز ایجنسی‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تصادم کا دائرہ پہلے ہی خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز سے نکل کر بحیرہِ احمر تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہم پر مزید جنگ مسلط کی گئی، تو یہ محاذ مزید وسیع ہو جائے گا اور اس کے اثرات ’بحرِ ہند‘ یا شاید اس سے بھی آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔
نئی دفاعی ڈاکٹرائن اور عسکری صلاحیتوں میں تیزی
اس کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایران کے قائم مقام وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن رضا کا پالیسی بیان بھی سامنے آیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق، انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی قیادت کے حالیہ خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کا دفاعی نظریہ اب تبدیل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے دنیا کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ایران تیزی سے نئی اور جدید ترین دفاعی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے۔
انہوں نے اپنے مدمقابل ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ایرانی عوام کو دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے قطعی طور پر مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔
جغرافیائی و سفارتی پس منظر
گزشتہ ایک برس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال مسلسل ابتری کا شکار ہے۔ بحیرہِ احمر میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی معیشت اور بحری ترسیل کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خطے میں عسکری کارروائیوں اور ایران کے متوازی جوابی اقدامات نے اس تنازعے کو ایک بڑی علاقائی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران کی جانب سے اب ’بحرِ ہند‘ تک تنازع پھیلنے کی بات دراصل اسی تسلسل کی کڑی ہے، جو خطے کی حساس جغرافیائی سیاست کی عکاسی کرتی ہے۔
بدلتے ہوئے حالات اور عالمی منظر نامے پر اثرات
اگر ایرانی عسکری قیادت کے ان بیانات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محض روایتی بیان بازی نہیں بلکہ خطے میں ایک گہری اسٹریٹجک شفٹ کا واضح اشارہ ہے۔
تہران کی جانب سے ملکی دفاعی نظریے میں تبدیلی کا برملا اظہار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران اب ممکنہ طور پر غیر روایتی جنگی طریقوں اور جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔
اسٹریٹجک لحاظ سے ’بحرِ ہند‘ کو تنازع کے دائرے میں شامل کرنے کی وارننگ براہِ راست عالمی طاقتوں اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک بڑا الارم ہے۔
’بحرِ ہند‘ دنیا کی مصروف ترین تجارتی آبی گزرگاہوں اور توانائی کی ترسیل کا اہم ترین روٹ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کا تصادم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کے پہیے کو جام کر سکتا ہے۔
یہ بیانات سفارتی اور عسکری محاذ پر ایک انتہائی سوچی سمجھی نفسیاتی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، جس کا بنیادی مقصد امریکا اور اسرائیل پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی براہِ راست فوجی جارحیت یا محاذ آرائی سے باز رہیں۔