ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔
اردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ امن برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہے، جبکہ خطے کے مسائل کے حل کے لیے علاقائی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد علاقائی ملکیت کے اصول پر قائم کیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان یکجہتی کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں آزادیٔ آمدورفت
اردوان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رہنی چاہیے، خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کا جاری رہنا بھی ضروری ہے۔
آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ
ترک صدر نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 کی سرحدوں پر قائم ہونی چاہیے اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنایا جائے،انہوں نے غزہ کی تعمیر نو جلد از جلد شروع کرنے اور اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔
فلسطینی ریاست کے قیام کا عزم
اردوان نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا گلا گھونٹنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، انہوں نے شرم الشیخ میں ایک سال قبل طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اسرائیلی وفد کا واک آؤٹ
ترک صدر رجب طیب اردوان کے خطاب کے دوران اسرائیلی وفد اقوام متحدہ جنرل اسمبلی ہال سے واک آؤٹ کر گیا، اقوام متحدہ کی سابقہ کارروائیوں میں بھی اسرائیلی حکام کے خطابات کے دوران مختلف وفود کے واک آؤٹ کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔