لانگ مارچ دم توڑ گیا، بنوں، کوہاٹ، کرک اور ہنگو کے کارکنان سہیل آفریدی اور شفیع جان پر پھٹ پڑے

لانگ مارچ دم توڑ گیا،  بنوں، کوہاٹ، کرک اور ہنگو کے کارکنان سہیل آفریدی اور شفیع جان پر پھٹ پڑے

کوہاٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء نے اپنی ہی قیادت کے خلاف شکایات کا اظہار کرتے ہوئے کھانے، ناشتے اور قیام کے انتظامات پر سوال اٹھا دیے۔ کارکنوں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سڑکوں اور میدانوں میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، جبکہ رہنما ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں آرام کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ کوہاٹ پہنچنے کے بعد اپنے ہی شرکاء کی تنقید کی زد میں آگیا۔ بنوں، کوہاٹ، کرک، ہنگو اور دیگر علاقوں سے آنے والے کارکنوں نے ویڈیو پیغامات میں احتجاج کے انتظامات اور قیادت کے رویے پر ناراضی ظاہر کی۔

شرکاء نے سہیل آفریدی، شفیع جان اور شاہد خٹک سمیت پارٹی رہنماؤں سے سوال کیا کہ اگر انہیں یہاں لا کر بے یار و مددگار چھوڑنا تھا تو مارچ میں شرکت کے لیے بلایا کیوں گیا؟ ان پیغامات میں کارکنوں کی بنیادی شکایات رہائش، خوراک اور قیادت کی عدم موجودگی سے متعلق تھیں۔

ٹینٹوں اور میدانوں میں کارکن، اے سی کمروں میں قیادت کا الزام

ناراض شرکاء کا کہنا تھا کہ انہیں ٹینٹوں، سڑکوں، چوراہوں اور میدانوں میں چھوڑ دیا گیا ہے، جہاں وہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قیادت خود ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں آرام کر رہی ہے، جبکہ کارکنوں کی ضروریات اور مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

کارکنوں نے شکوہ کیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اپنے گھروں سے نکلے، لیکن ان کی مشکلات سننے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے بھی رہنما موجود نہیں۔ ان کے بقول، احتجاج میں شریک لوگوں کو صرف وہاں پہنچانے سے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی، ان کے قیام اور کھانے کا انتظام بھی ضروری ہے۔

سہیل آفریدی اور شفیع جان سے سخت سوالات

ایک شریک نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر کارکنوں کو چھوڑ کر چھپ  گئے ہیں۔ دوسرے نے شفیع جان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کے لیے کھانے اور ناشتے کا انتظام تک نہیں کر سکےحالانکہ تقریر بہت اچھی جھاڑی تھی کہ کوہاٹ میرا علاقہ میں یہاں میزبان ہوں تو میرا سوال ہے کہ کہاں ہے تمہاری میزبانی؟۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ قیادت خود کارکنوں کے درمیان موجود رہے اور ان کے ساتھ بیٹھے تو لوگ بھی احتجاج میں موجود رہیں گے۔ انہوں نے رہنماؤں کی موجودگی کو کارکنوں کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا۔ ان شکایات میں مطالبہ کیا گیا کہ قیادت عوام کی بات سنے اور احتجاج میں شامل افراد کی مشکلات دور کرے۔

لاکھوں کی شرکت کی باتوں پر بھی اعتراض

ویڈیو پیغامات میں لانگ مارچ کی عوامی شرکت اور سرگرمی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ بعض کارکنوں نے کہا کہ لاکھوں افراد کی شرکت کی باتیں کی جا رہی ہیں، لیکن زمین پر اس کے مطابق مؤثر احتجاج یا سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ قیادت نہ دوسرے علاقوں سے آنے والے کارکنوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے اور نہ مقامی لوگوں کو متحرک کر پا رہی ہے۔ شرکاء نے سوال کیا کہ اگر لوگ احتجاج میں شامل نہ ہوں اور موجود کارکنوں کی بات بھی نہ سنی جائے تو احتجاج کا مقصد کیسے حاصل ہوگا؟ فراہم کردہ معلومات میں شرکاء کی مجموعی تعداد کی تصدیق شامل نہیں۔

چندے کا حساب واضح کرنے کا مطالبہ

لانگ مارچ کے انتظامات کے ساتھ چندے کے استعمال پر بھی اعتراضات سامنے آئے۔ ایک شریک نے دعویٰ کیا کہ عوام سے تقریباً ایک ارب تیس کروڑ روپے جمع کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا اور ایک ہزار سے بیس ہزار روپے تک چندہ دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کارکنوں کے دیے ہوئے چندے کا حساب واضح کیا جائے اور اس رقم کو کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ یہ رقم ایک شریک کے دعوے پر مبنی ہے؛ چندے کی مجموعی مالیت اور اس کے استعمال سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

عمران خان سے وابستگی، احتجاج کے طریقے سے اختلاف

ناراض کارکنوں نے واضح کیا کہ عمران خان سے ان کی وابستگی برقرار ہے، تاہم احتجاج کے لیے کارکنوں کی عزت، سہولت اور منظم حکمتِ عملی بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی اور حقوق کے لیے احتجاج اپنی جگہ، لیکن لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

ایک شریک نے موجودہ احتجاج کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ بھی اسی انداز میں احتجاج کیے گئے تو ان کا انجام بھی مختلف نہیں ہوگا۔ احتجاج کی ناکامی سے متعلق یہ رائے متعلقہ شریک کی ہے۔

 پی ٹی آئی کا یہ لانگ مارچ سہیل آفریدی کی قیادت میں لکی مروت سے شروع ہوا اور کوہاٹ پہنچا۔ شرکاء اسے عمران خان کی رہائی اور حقوق کے لیے احتجاج قرار دیتے ہیں۔ موجودہ شکایات اسی احتجاج کے انتظامات، قیادت کی کارکنوں تک رسائی اور چندے کے حساب سے متعلق ہیں۔

Related Articles