سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو دراصل دو سال پرانی ہے۔ویڈیو دراصل 12 ستمبر 2024 کو ضلع کرم کے علاقے خرلاچی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے زینبیون کمانڈر مشہود علی عرف عاجز سمیت چار شدت پسندوں کی گرفتاری کی ویڈیو ہے، جو پاراچنار میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد کی جانے والی گرفتاریوں سے متعلق ہے۔
ویڈیو میں گرفتار کیے جانے والے افراد کو دکھایا گیا ہے، جن میں زینبیون کمانڈر مشہود علی عرف عاجز بھی شامل تھا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس اس ویڈیو کو اس تاثر کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں کہ سکیورٹی فورسز پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کرکے حراست میں لے رہی ہیں۔
یہ دعویٰ گمراہ کن ہے، کیونکہ ویڈیو کو اس کے اصل پس منظر سے ہٹ کر آؤٹ آف کانٹیکسٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔ویڈیو کا پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے اصل مناظر 12 ستمبر 2024 کو خرلاچی، ضلع کرم میں زینبیون کمانڈر مشہود علی عرف عاجز سمیت چار شدت پسندوں کی گرفتاری اور پاراچنار میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد کی جانے والی گرفتاریوں سے متعلق ہیں۔