ہوسکتاہے لانگ مارچ افغانستان سے چکر  لگا کر آئے،محمد علی شاہ باچا

ہوسکتاہے لانگ مارچ افغانستان سے چکر  لگا کر آئے،محمد علی شاہ باچا

پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی، امن و امان، کرپشن، ترقی اور گورننس جیسے بنیادی مسائل موجود ہیں، لیکن ان پر توجہ دینے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور عمران خان کے بیانیے کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کا نقصان خیبر پختونخوا کے عوام اور نوجوانوں کو ہو رہا ہے۔

سیاسی دورے جاری

پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت مختلف اضلاع کے دورے کر رہی ہے پشاور سے آبائی حلقے میں ڈیرے ڈالنے کے بعد چارسدہ اور باجوڑ جانے کا پروگرام ہے جبکہ دیگر علاقوں کے دورے بھی کیے جا رہے ہیں  ہوسکتا ہے افغانستان کا چکر لگا کر آئیں ۔

دوسری جماعتوں پر پابندی؟

انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں پی ٹی آئی کی قیادت پہنچ رہی ہے وہاں دوسری سیاسی جماعتیں جلسے، احتجاج اور اجتماعات نہیں کرسکتیں، سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس صورتحال کا نقصان کس کو ہو رہا ہے۔

دہشتگردی بڑا مسئلہ

محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، گورننس کے مسائل موجود ہیں اور کرپشن بھی ہو رہی ہے، لیکن ان معاملات پر توجہ دینے کے بجائے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے اور ان کے ذہنوں میں نفرتیں اور اختلافات پیدا کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی یا عوامی لاتعلقی؟ لانگ مارچ کا کیمپ ویران ہوگیا

روز جنازے اٹھ رہے ہیں

پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر نے کہا کہ صوبے کی موجودہ حالت سب کے سامنے ہے، روزگار اور ترقی ختم ہو رہی ہے جبکہ روزانہ جنازے اٹھ رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔

عوام سے سوال

انہوں نے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کے نمائندوں پر اعتماد کرکے انہیں منتخب کیا، لیکن اس کے باوجود وہ ڈیلیور نہیں کر پا رہے، پی ٹی آئی کو چاہیے کہ صوبے سے دہشتگردی کے خاتمے، ترقی، کرپشن کے خاتمے اور گورننس کے مسائل پر توجہ دے۔

ایمرجنسی یا گورنر راج

محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی باتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی یا حکومت صوبے میں سیاسی مداخلت یا تبدیلی کی کوشش کر رہی ہے، اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ حکومت ایمرجنسی یا گورنر راج چاہتی ہے تو سوال یہ ہے کہ حکومت ایسا کیوں چاہے گی۔

لینڈ کروزر پر سوال

انہوں نے کہا کہ ماضی میں منتخب نمائندے سائیکل پر اسمبلی آتے تھے، جبکہ آج کروڑ پتی اور ارب پتی بن کر لینڈ کروزر میں گھوم رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو صوبے میں جہاں جانا ہو، دن ہو یا رات، جانے کی آزادی ہے، لیکن دوسری سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کا موقع نہیں دیا جا رہا۔

نقصان کس کا؟

محمد علی شاہ باچا نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت سمجھتی ہے کہ پورے صوبے کے دورے کرتے رہنے سے مسائل حل ہوجائیں گے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کا نقصان کس کو ہو رہا ہے۔

editor

Related Articles