سہیل آفریدی کے کنٹینر سے نعرے،عوام خاموش،لانگ مارچ کے بچے کچھےشرکا تھکن سے نڈھال ،قیادت کو کوسنے لگے

سہیل آفریدی کے کنٹینر سے نعرے،عوام خاموش،لانگ مارچ کے بچے کچھےشرکا تھکن سے نڈھال ،قیادت کو کوسنے لگے

خیبر پختونخوا میں جاری لانگ مارچ کے دوران عوامی شرکت اور ردعمل محدود دکھائی دینے لگا۔ مارچ کے دوران سہیل آفریدی کنٹینر سے عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے رہے،تاہم موقع پر موجود عوام کی جانب سے ان نعروں کا وہ جواب دکھائی نہیں دیا جو بڑے عوامی اجتماع میں عموماً سنائی دیتا ہے۔

شرکا کی تعداد محدود

مارچ کے قافلے میں موجود افراد کی تعداد بھی محدود نظر آئی، جبکہ طویل سفر اور مسلسل احتجاج کے باعث شرکا میں تھکن کے آثار نمایاں دکھائی دیے۔ اس صورتحال نے مارچ کی عوامی مقبولیت اور لوگوں کی دلچسپی کے حوالے سے مختلف سوالات پیدا کردیئے ہیں۔

عوامی مسائل ترجیح

خیبر پختونخوا کے شہری پہلے ہی دہشت گردی اور بدامنی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال نے عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے اور ایسے حالات میں عوام کی ایک بڑی توجہ اپنے روزمرہ مسائل، کاروبار اور جان و مال کے تحفظ پر مرکوز ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی یا عوامی لاتعلقی؟ لانگ مارچ کا کیمپ ویران ہوگیا

احتجاج سے مزید مشکلات

دوسری جانب مسلسل احتجاج، سڑکوں کی بندش اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث عام شہریوں کو آمدورفت سمیت دیگر مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لانگ مارچ کے دوران عوامی ردعمل کئی مقامات پر محدود دکھائی دے رہا ہے۔

مارچ کا امتحان

سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کے حق میں مسلسل نعرے بازی کے باوجود اگر عوامی سطح پر اس کا جواب کم ملتا ہے تو یہ صورتحال مارچ کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن جاتی ہے۔ موجودہ منظرنامہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل اور امن و امان کی صورتحال بھی خیبر پختونخوا کے سیاسی ماحول میں مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

editor

Related Articles