امریکا ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں، ٹرمپ نے واضع اعلان کر دیا

امریکا ایران پر حملہ کرے گا یا نہیں، ٹرمپ نے واضع اعلان کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان نتیجہ خیز بات چیت جاری ہے، تاہم ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

ٹرمپ کے اس اعلان سے ایران کے خلاف فوری امریکی حملے کے امکان کے حوالے سے صورتِ حال میں وقتی وضاحت سامنے آئی ہے، تاہم اس کا مطلب جنگ کے مستقل خاتمے یا امن معاہدے پر اتفاق نہیں ہے۔

امریکی صدر نے 8 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہا ہے اور 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کے ساتھ واضح کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پوری شدت سے جاری رہے گی۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے پیمانے کی فوجی کارروائی کے لیے تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں۔ ٹرمپ کے بیان سے انتخابات سے پہلے حملے کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے، تاہم انتخابات کے بعد کی صورتِ حال کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران مذاکراتی عمل سے باہر نہیں ہوا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران کو امریکی تجویز پر جواب موصول ہوا ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول سبسڈی کا خاتمہ، حکومت اور آئی ایم ایف میں کیا طے پایا؟

آبنائے ہرمز بھی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے تیل کی ترسیل ریکارڈ سطح پر جاری ہے اور ان کے مطابق ایک رات میں 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل اس راستے سے گزرا۔ تاہم یہ اعداد و شمار امریکی صدر کا بیان کردہ دعویٰ ہیں، جس کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

امریکی صدر کے اعلان کے باوجود ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں کمی کے آثار سامنے نہیں آئے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے 8 اکتوبر کو ایران کے تیل کی مبینہ ترسیل میں ملوث افراد، نیٹ ورکس اور 17 بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کے اعلان کے ساتھ ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی بھی جاری ہے۔

مجموعی طور پر ٹرمپ کے تازہ اعلان نے کم از کم 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک امریکی فوجی کارروائی کے حوالے سے ایک واضح زمانی حد مقرر کی ہے، تاہم ایران کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی، ناکہ بندی کے مستقبل اور انتخابات کے بعد ممکنہ فیصلوں کے بارے میں صورتِ حال اب بھی غیر یقینی ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles