پیٹرول سبسڈی کا خاتمہ، حکومت اور آئی ایم ایف میں کیا طے پایا؟

پیٹرول سبسڈی کا خاتمہ، حکومت اور آئی ایم ایف میں کیا طے پایا؟

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 1.21 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا اس معاہدے کے ساتھ حکومت نے پیٹرول پر جاری سبسڈی اسکیم کو فوری طور پر مرحلہ وار ختم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے آئی ایم ایف نے مہنگے اور وسیع پیمانے پر دی جانے والی فیول سپورٹ اسکیم کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایم ایف مشن کی سربراہ آئیوا پیٹرووا کے مطابق موجودہ فیول سپورٹ اسکیم پر اخراجات زیادہ ہیں اور اس کا دائرہ ضرورت مند طبقے تک محدود نہیں۔ اسی لیے حکومت سے کہا گیا ہے کہ اس اسکیم کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

حکومت نے رواں برس پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے تین ماہ کی سبسڈی اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت موٹر سائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر اور 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والوں کو 30 لیٹر پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے ریلیف دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے تھے۔

اب آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کے بعد اس اسکیم کا مستقبل تبدیل ہوگیا ہے اور حکومت کو پیٹرول پر موجودہ وسیع البنیاد سبسڈی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے تو مستقبل میں کوئی بھی فیول ریلیف محدود مدت، مخصوص طبقے اور موجودہ سماجی تحفظ کے نظام کے ذریعے دیا جائے گا، جبکہ اس کے اخراجات مالی سال 2027 کے بجٹ کی مقررہ حدود میں رکھنا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کی ہٹ دھرمی یا عوامی لاتعلقی؟ لانگ مارچ کا کیمپ ویران ہوگیا

ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش بھی کی تھی، تاہم مذاکرات کے دوران فنڈ نے وسیع پیمانے پر دی جانے والی اس سبسڈی پر تحفظات برقرار رکھے۔ نتیجتاً نئے معاہدے میں فیول سپورٹ اسکیم کو مرحلہ وار ختم کرنے کی شرط شامل ہوگئی۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد میں جاری رہے۔ مذاکرات میں 2026ء کے آرٹیکل فور مشاورتی عمل، ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تیسرے جائزے کا جائزہ لیا گیا۔

معاہدے کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً ایک ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی جبکہ 21 کروڑ ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت مل سکیں گے، یوں دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی رقوم تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر یہ بھی زور دیا ہے کہ صحت اور تعلیم سمیت سماجی شعبوں کے اخراجات میں اضافہ کیا جائے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی اور حکمرانی میں بہتری لائی جائے۔ تاہم اس معاہدے میں عوام کے لیے فوری اہمیت کا حامل معاملہ پیٹرول سبسڈی اسکیم کا خاتمہ ہے، جس کا براہ راست تعلق موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے شہریوں کو ملنے والے مجوزہ فیول ریلیف سے ہے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles