امریکہ کا ایران پرحملوں کا خدشہ ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

امریکہ کا ایران پرحملوں کا خدشہ ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکی جنگ سے متعلق خدشات میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کاروباری ہفتے کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 4.08 ڈالر یعنی 4.1 فیصد اضافے کے بعد 104.28 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 3.21 ڈالر مہنگا ہوا۔

اس اضافے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت 91.49 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ کاروبار کے دوران دونوں اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں کسی وقت 5 ڈالر فی بیرل سے زیادہ اضافہ بھی ہوا۔

برینٹ کی قیمت بلند ترین سطح پر

ممکنہ امریکی حملوں کے خدشات کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 29 ستمبر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈی میں تیل کی رسد کے حوالے سے خدشات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :عالمی منڈی میں مسلسل دوسرے روز تیل مہنگا، برینٹ خام تیل 106 ڈالر کے قریب پہنچ گیا

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں خطے کی سیاسی اور عسکری صورت حال سے متاثر ہوتی ہیں۔ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور بحری راستوں کو لاحق خطرات نے سرمایہ کاروں کی توجہ تیل کی ترسیل پر مرکوز کردی ہے۔

آبنائے ہرمز میں خطرات بڑھ گئے

ایران کے ساتھ تنازع آٹھویں ماہ میں داخل ہونے کے باعث خلیج اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کو خطرات لاحق ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر حملوں کی تعداد جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس پیش رفت نے تیل کی محفوظ ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

برآمدات میں اضافے کے باوجود قیمتیں بڑھ گئیں

خطے میں خطرات کے باوجود خلیجی ممالک نے تیل کی برآمدات میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم بحری جہازوں کو درپیش خطرات اور ممکنہ امریکی حملوں کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئیں۔

 یہ بھی پڑھیں :سعودی عرب کا ایشیا کیلئے بڑا فیصلہ، خام تیل کی قیمت 6 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ عالمی رسد کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی کشیدگی کو تیل کی منڈی میں اہم پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔

عالمی منڈی میں قیمتوں کا آئندہ رخ خطے کی صورت حال اور تیل کی رسد سے متعلق پیش رفت پر منحصر ہوگا۔ فی الحال دستیاب رپورٹ میں مستقبل کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی حتمی اندازہ نہیں دیا گیا۔

editor

Related Articles