مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی بھرتیوں کا الزام، امریکا نے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں پر بڑی پابندی عائد کردی

مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی بھرتیوں کا الزام، امریکا نے بھارتی آئی ٹی کمپنیوں پر بڑی پابندی عائد کردی

امریکا نے آٹھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین کی مستقل رہائش سے متعلق تصدیقی عمل معطل کردیا ہے۔ اس فیصلے کی زد میں بھارت کی چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی آئی ہیں۔

امریکی وزیر محنت کے مطابق نامزد کمپنیوں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔ ان اداروں کی زیر التوا درخواستوں پر کارروائی بھی روک دی جائے گی۔

متاثرہ کمپنیوں میں بھارتی ادارے ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل شامل ہیں۔ امریکی کمپنیوں مائیکروسافٹ اور ایڈوب کے علاوہ کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔

نئی درخواستوں پر پابندی

امریکی حکام کے اعلان کے مطابق آٹھ کمپنیوں کے لیے مستقل رہائش کی تصدیق کا عمل معطل کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت نئی درخواستوں پر کارروائی نہیں ہوگی جبکہ پہلے سے زیر التوا درخواستیں بھی رک جائیں گی۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکا کا 40 سے زیادہ ممالک پر ٹیرف چوری کا الزام، چین کا سخت ترین ردِعمل

تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں اس اقدام کی مدت اور متاثرہ ملازمین کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ معطلی کا اطلاق کن مخصوص زمروں کی درخواستوں پر ہوگا۔

غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر اعتراض

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعض کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق بعض ادارے ملازمتوں سے متعلق ضابطوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یہ الزامات امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی اور مقامی ملازمین کے مواقع سے متعلق بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :دماغ کی باتیں پڑھنے والی ہیڈفونز آگئے ، ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیران کردیا

دوسری جانب بھارتی ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندہ تنظیم نے کہا ہے کہ اس کے رکن اداروں نے امریکا میں مقامی بھرتیوں میں اضافہ کیا ہے۔

بھارتی ٹیکنالوجی شعبہ بھی زیر بحث

اس فیصلے میں بھارت کی چار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نام شامل ہونے سے بھارتی ٹیکنالوجی صنعت کی توجہ بھی اس معاملے پر مرکوز ہوگئی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں کہ معطلی سے ان کمپنیوں کے کاروبار یا ملازمین پر کتنا اثر پڑے گا۔

امریکا میں مستقل رہائش کی درخواستوں سے متعلق اس اقدام کے عملی نتائج کا انحصار آئندہ حکومتی فیصلوں اور معطلی کی مدت پر ہوگا۔ فی الحال امریکی حکام کی جانب سے کسی حتمی مدت یا بحالی کے شیڈول کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

editor

Related Articles