برطانیہ میں پناہ کے متلاشی افراد کی جانب سے امیگریشن انٹرویوز ملتوی کرانے کے لیے آن لائن طبی سرٹیفکیٹس استعمال کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ہوم آفس کی ایک اندرونی دستاویز میں مختلف درخواست گزاروں کی فائلوں میں ایک جیسے طبی نوٹس جمع کرائے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض افراد مبینہ طور پر بیماری کے سرٹیفکیٹس جمع کرا کے اپنے مقررہ انٹرویوز ملتوی کرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس معاملے نے برطانوی امیگریشن نظام میں طبی دستاویزات کی جانچ اور انٹرویوز کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
44 پاؤنڈ کا سرٹیفکیٹ
رپورٹ میں ہوم ٹو لیب نامی ویب سائٹ کا ذکر کیا گیا ہے جہاں 44 برطانوی پاؤنڈ میں طبی خط حاصل کرنے کی سہولت پیش کی جاتی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق درخواست گزار کو ڈاکٹر سے بالمشافہ ملاقات کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم طبی معلومات کا آن لائن جائزہ لیا جاتا ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق برطانیہ میں رجسٹرڈ ڈاکٹر درخواست گزار کی فراہم کردہ معلومات کا جائزہ لیتا ہے اور طبی طور پر مناسب ہونے کی صورت میں دستخط شدہ خط جاری کرتا ہے۔
اس عمل میں بیماری کی تفصیلات اور بعض صورتوں میں مختصر ویڈیو بھی طلب کی جاسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :برطانیہ میں امریکی فضائی اڈے میں داخلے کی کوشش میں گرفتار دو غیر ملکی کون ہیں ؟ تفصیلات سامنے آگئیں
تاہم ویب سائٹ واضح کرتی ہے کہ اس کی یہ سروس ہوم آفس یا امیگریشن سے متعلق معاملات کے لیے طبی خطوط جاری نہیں کرتی۔ اس لیے اس سروس کو پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے امیگریشن انٹرویو ملتوی کرانے کا تصدیق شدہ ذریعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ایک جیسے نوٹس پر تشویش
ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ہوم آفس کی اندرونی دستاویز میں مختلف درخواست گزاروں کی فائلوں میں ایک جیسے جی پی نوٹس شامل کیے جانے کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض سرٹیفکیٹس انٹرویو سے ایک روز پہلے یا انٹرویو کے دن جمع کرائے گئے۔
رپورٹ میں ہوم آفس کے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ایسے نوٹس انٹرویوز میں تاخیر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام متعلقہ درخواست گزاروں نے جعلی دستاویزات جمع کرائیں یا ویب سائٹ نے انٹرویوز ملتوی کرانے میں مدد فراہم کی۔
ہوم آفس کے قواعد کیا کہتے ہیں؟
برطانوی حکومت کی سرکاری ہدایات کے مطابق اگر کوئی پناہ کا درخواست گزار بیماری کی وجہ سے انٹرویو میں شرکت نہیں کرسکتا تو اسے عموماً جی پی، کنسلٹنٹ یا کسی دوسرے متعلقہ مستند طبی ماہر کا خط یا مناسب ثبوت فراہم کرنا ہوتا ہے۔
ہوم آفس کو طبی ثبوت اور انٹرویو میں شرکت نہ کرسکنے کی وجہ کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ اگر وجہ قابل قبول ہو تو انٹرویو دوبارہ مقرر کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری ہدایات کے مطابق ملتوی ہونے والے انٹرویو کو جلد از جلد دوبارہ طے کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری ،پاکستانی سرجن نے برطانیہ میں نئی تاریخ رقم کردی


