خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد بیوروکریسی میں تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے چہیتے کمشنر پشاور ریاض خان محسود کے حوالے سے نیب اور دیگر وفاقی اداروں نے تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں اور ان کے خلاف گھیرا تنگ ہوگیا ہے
ریاض خان محسود کو حالیہ عرصے میں خیبر پختونخوا کی انتظامی مشینری کے اہم افسران میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے اور نئے انتظامی بندوبست کے بعد اعلیٰ افسران کی تعیناتیوں اور سابقہ انتظامی فیصلوں کا جائزہ لیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کمشنرز سمیت متعدد اعلیٰ افسران کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کمشنر پشاور ریاض خان محسود کو بھی عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کی خبر سامنے آ چکی ہے یہ تحریک انصاف کے چہیتے کمشنر میں شمار ہوتے تھے ۔
نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت سرکاری امور کی نگرانی، اداروں کی کارکردگی اور انتظامی فیصلوں کا جائزہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایسے میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات افسران کے مستقبل اور ان کی ذمہ داریوں میں تبدیلیوں پر بھی توجہ مرکوز ہے۔
ذرائع کے مطابق مطابق ریاض محسود کے حوالے سے نیب سمیت بعض وفاقی اداروں کی ممکنہ کارروائی زیر غور ہےر متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی باضابطہ انکوائری یا کارروائی شروع کی جاتی ہے تو اس کی نوعیت اور وجوہات کا تعین سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ اعلامیے کی روشنی میں ہی ممکن ہوگا۔
خیبر پختونخوا میں انتظامی تبدیلیوں کے بعد اعلیٰ افسران کی تعیناتیوں اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے متعلق معاملات آنے والے دنوں میں اہم رہنے کا امکان ہے۔ گورنر راج کے تحت انتظامی اختیارات کی نئی ترتیب کے باعث صوبائی مشینری کی نگرانی اور حکومتی امور چلانے کے طریقۂ کار میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔