روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری ،پاکستانی سرجن نے برطانیہ میں نئی تاریخ رقم کردی

روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری ،پاکستانی سرجن نے برطانیہ میں نئی تاریخ رقم کردی
لندن میں پاکستانی سرجن ڈاکٹر عامر رضا نے سنگل پورٹ روبوٹک گائناکولوجیکل سرجری کے شعبے میں اہم سنگ میل عبور کرلیا۔

نشتَر میڈیکل کالج ملتان سے تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر عامر رضا برطانیہ میں جدید روبوٹک سرجری کے نمایاں ماہرین میں شامل ہوگئے ہیں۔

ان کی قیادت میں روبوٹک سرجری پروگرام اب 400 سے زائد آپریشنز مکمل کرچکا ہے۔

یہ پروگرام خواتین کے پیچیدہ امراض کے علاج میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ایک چیرا اور جدید سرجری

سنگل پورٹ روبوٹک سرجری روایتی ملٹی پورٹ روبوٹک طریقے سے مختلف ہے۔

روایتی طریقے میں عموماً پیٹ پر کئی چھوٹے چیرے لگائے جاتے ہیں۔

سنگل پورٹ طریقے میں کیمرہ اور روبوٹک آلات ایک ہی راستے سے جسم کے اندر داخل کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عامر رضا اور ان کی ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کو پیچیدہ گائناکولوجیکل آپریشنز تک پہنچایا ہے۔

ان میں اینڈومیٹریوسس کے انتہائی پیچیدہ کیسز بھی شامل ہیں۔

عالمی سرجنوں کی توجہ

ڈاکٹر عامر رضا کی ٹیم کا آپریشن تھیٹر اب سرجیکل تربیت اور مشاہدے کا مرکز بھی بن چکا ہے۔

برطانیہ اور یورپ کے علاوہ امریکا سمیت مختلف ممالک سے سرجن یہاں کا دورہ کرچکے ہیں۔

ڈاکٹر رضا کے مطابق 100 سے زائد سرجن ان کے مرکز آچکے ہیں۔

یہ ماہرین پیچیدہ سنگل پورٹ روبوٹک آپریشنز کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

وہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور مشکل گائناکولوجیکل کیسز کے علاج کے طریقوں سے بھی سیکھتے ہیں۔

دو بڑے اعزازات

ڈاکٹر عامر رضا نے روبوٹک سرجری اور جدید اینڈومیٹریوسس کیئر میں بھی اہم اعزاز حاصل کیا ہے۔

وہ برطانیہ میں روبوٹک سرجری اور جدید اینڈومیٹریوسس کیئر کے پہلے ماسٹر سرجن بن گئے ہیں۔

انہیں دو الگ شعبوں میں ماسٹر سرجن ایکریڈیٹیشنز دی گئی ہیں۔

یہ اعزاز امریکا میں قائم سرجیکل ریویو کارپوریشن نے بیرونی جائزے کے بعد دیا۔

جائزے میں سرجیکل پریکٹس، مریضوں کے نتائج اور پیچیدگیوں کا جائزہ لیا گیا۔

انتظامی نگرانی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بھی جانچا گیا۔

ڈاکٹر رضا یورپ کے واحد کنسلٹنٹ ہیں جن کے پاس اس نوعیت کی دو ماسٹر سرجن ایکریڈیٹیشنز ہیں۔

اینڈومیٹریوسس کا پیچیدہ علاج

ڈاکٹر رضا نے اینڈومیٹریوسس کے پیچیدہ علاج میں بھی اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔

ان کے مطابق اینڈومیٹریوسس خواتین میں شدید درد کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بیماری خواتین کی زرخیزی اور معیار زندگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف پیلوک کے اعضا تک محدود نہیں رہتا۔

پیچیدہ کیسز میں آنتیں، مثانہ، پیشاب کی نالی، اعصاب اور ڈایافرام بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر رضا کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں خواتین اس بیماری سے متاثر ہیں۔

دو دن میں کئی پیچیدہ آپریشنز

تقریباً تین سال قبل ڈاکٹر رضا نے اینڈومیٹریوسس کے علاج میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کیا تھا۔

انہوں نے لندن کے چیلسی اینڈ ویسٹ منسٹر اسپتال میں سرجنوں کی ٹیم کی قیادت کی تھی۔

ٹیم نے صرف دو دن میں پیچیدہ گائناکولوجیکل آپریشنز کی بڑی تعداد مکمل کی تھی۔

ایک ہی دن میں 12 بڑے آپریشنز بھی کیے گئے تھے۔

اس دوران ڈا ونچی روبوٹک ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔

علاج صرف سرجری تک محدود نہیں

ڈاکٹر عامر رضا کا کہنا ہے کہ پیچیدہ اینڈومیٹریوسس کا علاج صرف سرجری تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق تشخیص اور صحتیابی کے ساتھ درد کا انتظام بھی ضروری ہے۔

زرخیزی، نفسیاتی بہبود اور طویل مدتی معاونت بھی جامع نگہداشت کا حصہ ہونی چاہیے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پیچیدہ بیماری کا علاج ایک مکمل طبی ٹیم کی کوشش ہونی چاہیے۔

پاکستان سے تعلق برقرار

ڈاکٹر عامر رضا گزشتہ 25 سال سے زیادہ عرصے سے برطانیہ میں کام کررہے ہیں۔

انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا بڑا حصہ برطانیہ میں گزارا ہے۔

اس کے باوجود پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق برقرار ہے۔

 انہوں نے کہا کہ    مریضوں اور نئے ڈاکٹروں کی مدد کے لیے باقاعدگی سے پاکستان  جاتا ہوں ۔

وہ روبوٹک سرجری اور جدید طبی طریقۂ کار کو پاکستان منتقل کرنے کے لیے بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر رضا کے مطابق پاکستان نے انہیں تعلیم، شناخت اور وہ وسائل فراہم کیے جنہوں نے ان کے پیشہ ورانہ سفر میں کردار ادا کیا۔

جدید ٹیکنالوجی پاکستان تک پہنچانے کا عزم

ڈاکٹر رضا روبوٹک سرجری اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں عالمی تعاون کی حمایت کرتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ  جدید طبی پیش رفت کو صرف ایک ملک یا اسپتال تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

وہ سرجیکل تعلیم اور خواتین کی صحت کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

 ڈاکٹر رضا کے مطابق جدت کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس سے مریضوں کی نگہداشت بہتر ہو۔

editor

Related Articles